.

زندگی میں پہلی بار اپنے پائوں پر کھڑے ہونے والے سعودی کی خوشی دیکھیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

معذوری جیسے عارضے سے دوچار کسی بھی انسان کے لیے صحت مند ہونے سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ ایک معذور کے لیے یہ سب سے بڑی خوشی ہوگی کہ وہ تندرست ہوجائے۔

ایسا ایک معجزاتی واقعہ سعودی عرب کے ایک نوجوان کے ساتھ ہوا جو 25 سال کے بعد پہلی بار جب اپنے پائوں پر کھڑا ہو تو اس کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔

سوشل میڈیا پر وائرل سعودی نوجوان 'رجا المعبدی' کا کہنا ہے کہ 'میں اپنےپائوں پرکھڑا ہوا تو میں بتا نہیں سکتا کہ میں کتنا خوش تھا'۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے المعبدی نے کہا کہ میری عمر 25 سال ہے اور میں انٹرمیڈیٹ میں زیر تعلیم ہوں۔ میں پیدائش کے بعد پہلی بار اپنے پائوں‌ پر کھڑا ہوا تو یہ میری خوشی کی انتہا تھی۔ یہ اتنی بڑی خوشی تھی کہ جیسے کسی نے بادلوں کو ہاتھ لگایا ہو۔ بیماری کو شکست دینے اور فتح کا مزہ ہی عجیب ہے'۔

ایک سوال کے جواب میں المعبدی کا کہنا تھا کہ پیدائش کے وقت ہی سے میں آکسیجن کی کمی کے باعث جسمانی طور پر معذوری سے دوچار رہا۔ میرے دھڑ کے پٹھے کمزور رہے اور پائوں‌ پر کھڑا ہونا میرے لیے ممکن نہ تھا۔

المعبدی کا کہنا تھا کہ 2017ء کے بعد اس کے جسم کی تین بار سرجری کی گئی۔ وہ بچپن ہی سے بیساکھیوں پر کھڑا ہوتا تھا مگر ربع صدی بعد آج میں بغیر بیساکھیوں پر اپنے پائوں پر کھڑا ہوسکتا ہوں۔