.

اسرائیل کے مشہور ترین جاسوس کی دمشق میں گھومنے کی وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کے ضمن میں ایک نادر اور پرانی وڈیو سامنے آئی ہے۔ یہ وڈیو چند روز بعد پیش کی جائے گی۔ وڈیو کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس میں نظر آنے والا شخص موساد کا مشہور ترین جاسوس "ایلی کوہن" ہے۔ سال 1949ء میں موساد کے قیام کے بعد اس شخص کو اب تک اسرائیلی خفیہ ادارے کا اہم ترین جاسوس قرار دیا گیا ہے۔ دستاویزی فلم کے پہلے منٹ کے دوران 4 سیکنڈ کے ایک منظر میں ایلی کوہن کو شام کے دارالحکومت دمشق میں چلتے پھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ کوہن نے 1961ء سے شام میں جاسوسی کا آغاز کیا تھا۔ چار برس بعد وہ پکڑا گیا تو عدالت کے کٹہرے میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ کوہن کے خلاف عدالتی کارروائی کو ٹیلی وژن پر نشر کیا گیا۔ آخر کار عدالت نے 41 سالہ جاسوس کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ کوہن کو دمشق کے وسط میں المرجہ اسکوائر پر موت کے گھاٹ اتار گیا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ اس جاسوس کا اصلی نام کامل امین ثابت تھا اور وہ دمشق میں پیدا ہوا۔ بچپن میں ہی وہ اپنے والدین کے ساتھ ہجرت کر کے ارجنٹائن چلا گیا۔ بعد ازاں واپس شام لوٹ کر یہاں ایک شہری کے طور پر سکونت پذیر ہو گیا۔ اس نے صرف جاسوس کے طور پر ہی کام کیا اور سیاسی اور عسکری دونوں طبقوں میں اعلی شخصیات تک رسائی حاصل کر کے ان کا مقرب بن گیا۔

روس کا سرکاری RT ٹیلی وژن جلد ہی مذکورہ وڈیو کو اس جاسوس کے بارے میں دستاویزی فلم کے ضمن میں نشر کرے گا۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ شام دمشق میں کسی خفیہ مقام پر مدفون اس جاسوس کی باقیات اسرائیل کو واپس کرے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی جاسوس کی بیوہ نادیا کوہن نے بھی یہ وڈیو دیکھی ہے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اس وڈیو کی عکس بندی کرنے والا شخص اور ایلی کوہن دونوں ایک ہی برس شام پہنچے تھے۔