.

مصر اور اسرائیل کے درمیان سمندری گیس پائپ لائن کی تعمیر کا سمجھوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر اور اسرائیل بحیرہ روم کے مشرق میں گیس کی ایک نئی پائپ لائن بنانے پر متفق ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق یہ بات اتوار کے روز دونوں ملکوں کے توانائی کے وزراء کے درمیان ملاقات میں سامنے آئی۔ بات چیت سے مقرب ذرائع کا کہنا ہے کہ بحیرہ روم کے مشرق میں Leviathan gas field اور مصر کے درمیان مجوزہ سمندری پائپ لائن کا مقصد یورپ کی جانب ارسال ک جانے والی قدرتی گیس کے حجم میں اضافہ کرنا ہے۔

اس سمجھوتے کا اعلان مصری وزیر توانائی طارق الملا کے بیت المقدس کے دورے کے دوران کیا گیا۔ دورے میں انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو ، وزیر خارجہ گیبی اشکنزی اور اپنے اسرائیلی ہم منصب یونی شٹائنٹز سے ملاقاتیں کیں۔

مذاکرات سے با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مصر کی تنصیبات سے یورپ کے لیے گیس کی برآمدات کو بڑھانا ہے تا کہ یورپ میں قدرتی گیس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کی جا سکے۔

واضح رہے کہ Leviathan gas field اسرائیل کی تاریخ میں توانائی کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اس کے ذریعے دسمبر 2019ء میں گیس کی پہلی کھیپ نکالی گئی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے پوچھے گئے سوال کے جواب میں مصری اسرائیلی مذاکرات سے مطلع ذرائع نے بتایا کہ ابھی یہ نہیں معلوم کہ آیا نئی گیس پائپ لائن کو بحر روم گیس کمپنی کی پائپ لائنوں کے ساتھ جوڑا جائے گیا یا پھر قدرتی گیس Leviathan field سے براہ راست مصر منتقل ہو گی۔

یاد رہے کہ 2010ء میں شمالی اسرائیل میں حیفا کے ساحل سے 130 کلو میٹر کی دور پر دریافت ہونے والی Leviathan gas field میں اندازا 605 ارب کیوبک میٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں۔

اس حوالے سے مصر اور اسرائیل کے توانائی کے وزراء نے اتوار کے روز اپنی بات چیت میں "فلسطینیوں کے لیے قدرتی گیس کی فراہمی" پر تبادلہ خیال کیا۔ واضح رہے کہ غزہ پٹی کی پٹی کو گیس کی فراہمی کے لیے قطر کے ساتھ بھی بات چیت ہو رہی ہے۔