.

ایران: پاسداران انقلاب کی نہتے مظاہرین پر فائرنگ، 10 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے صوبہ بلوچستان میں قائم مقام صوبائی دفتر پر مسلح مظاہرین کے دھاوا بول دیا۔ با خبر ذرائع کے مطابق مظاہرین نےسروان کے علاقے کے ضلعی دفتر پر قبضہ کر لیا ہے۔ سراوان شہر میں شہریوں کے قتل عام کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ لوگوں نے پاکستان کی سرحد کے قریب پٹرول فروخت کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پاسداران انقلاب کے دفتر کا گھیرائو کیا۔ اس موقعے پر پاسداران انقلاب کے اہلکاروں نے مظاہرین پر گولی چلا دی جس کے نتیجے میں کم سے کم 10 مظاہرین ہلاک ہوگئے۔

بلوچ ایکٹویسٹ مہم کے مطابق سوموار کی شام ایرانی فورسز نے پٹرول فروخت کرنے والے کم سے کم 15 افراد کو گولیاں ماریں۔

مہم کی جانب سے ایک ویڈیو بھی شیئر کی گئی ہے جس میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کو اندھا دھند گولیاں چلاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ فائرنگ کے نتیجے میں کم سے کم 10 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ہلاک ہونے والوں کی شناخت یحییٰ کنکوزئی، عبدالرحمان شہرسان زئی، عبدی شہرسان زئی، سلمان شہرسان زئی، رحمان بخش دھواری، عبدالوہاب دامنی، انس زادہ، عبدالغفور توتازئی، محمد میر بلوچ زئی اور محمد نصر زئی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق زخمیوں‌ کو سروان اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ الرازی اسپتال میں لائے گئے زخمیوں کے علاج کے لیے خون کی قلت کا سامنا ہے۔ زخمیوں میں سے بعض کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔ واقعے کے بعد سراوان شہر میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے اور شہر کے تمام داخلی اور خارجی راستے سیل کر دیے گئے ہیں۔

مشتعل مظاہرین نے سروان شہر میں پولیس کی ایک گاڑی کو نذرآتش کر دیا۔

بلوچ ایکٹویسٹ مہم کے مطابق پٹرول فروشوں پر مشتمل کچھ لوگوں نے پاسداران انقلاب کے مرکز کے باہر احتجاج کیا۔ انہوں‌ نے سرحد کھولنے اور پٹرول فروخت کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا مگر پاسداران انقلاب نے ان پر گولیاں برسا دیں۔

ذرائع کے مطابق پاسداران انقلاب نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے 'مرصاد' اڈے پر موجود فوجیوں سے بھی مدد طلب کی۔