.

سعودی عرب میں 'سفید گل داودی' سے شمالی علاقے کھل اٹھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمالی علاقے حائل کے مغرب میں نفود الخبہ کے علاقے میں موجود 'گل داودی' نے سیاحوں کو اپنے سحر میں مبتلا کر دیا۔ سفید رنگ کے گل دائودی نے شمالی حائل میں اپنے خوبصورت رنگ بکھیر کر علاقے کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے۔ ایسے لگتا ہے کہ یہ پھول نہیں بلکہ قدرت کے حسین فن پارے ہیں جو سفید رنگ میں ڈھل چکے ہیں۔

سعودی فوٹو گرافر عبداللہ البرغش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وہ نباتات، پھولوں اور قدرتی مناظر کو کیمرے میں محفوظ کرنے کا شوق رکھتے ہیں۔ شمالی حائل میں اگائے جانے والے 'گل دائودی' کا تذکرہ ان کے لیے دلچسپ تھا۔ فوٹو گرافر البرغش نے بتایا کہ سعودی عرب میں گل دائودی کی 'نتاسٹم' نامی ایک قسم کاشت کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس پھول کی ہزاروں اقسام ہیں مگر اس نوع کے گل دائودی کی اپنی خاص خوشبو اور حجم ہوتا ہے۔ جنگی علاقوں میں اس کا سائز 15 سے 50 سینٹی میٹر ہوتا ہے جب کہ سیاحتی مقامات پر قائم کردہ پھولوں کے فارمز میں اس کا سائز 90 سینٹی میٹر ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سفید گل دائودی کا بیرونی حصہ سفید اور اندرونی زرد ہوتا ہے۔ یہ پھول ریتلے علاقوں اور سیرگاہوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔

انہوں‌ نے کہا کہ الغذزی ٹناسٹم کی قسم کا گل دائودی ہمیں حائل کے علاقے میں بہ کثرت دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ الخزامی اور دوسرے پھول بھی اگتے ہیں۔ یہاں تک گل دائودی کا تعلق ہے تو یہ بنیادی پر ایک خود رو پھول ہے۔ اس کی جڑیں ریتلے علاقوں میں موجود ہوتی ہیں۔ موسم بہار کی آمد کے ساتھ اس موسم میں ہونے والی بارشوں کے دوران یہ پھول کھلتا ہے تاہم بہت زیادہ سرد علاقوں میں یہ پھول نہیں اگتا۔ کچھ لوگ اپنے طور پر بھی اس کی کاشت کرتے ہیں۔

سعودی عرب میں یہ پھول موسم بہار کا ایک قدرتی تحفہ ہے۔ گل دائودی سفید اور گول شکل میں ہوتا ہے اور زیادہ تر پہاڑیوں پر کھلتا ہے۔ پھول کا ایک حصہ زرد اور دوسرا سفید ہوتا ہے۔ گل دائودی کے پھول اور اس کے پتوں کو مختلف بیماریوں‌کے علاج کے لیے مشروب کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔