.

’اسرائیلی دشمن‘ کا جہاز مشرقی بحرمتوسط میں تیل رسنے کا ذمے دار ہے:لبنانی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان اور اسرائیل کو 2006ء کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ایک بڑے ماحولیاتی خطرے کا سامنا ہے۔لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ ’اسرائیلی دشمن‘ کے ایک جہاز سے رسنے والا تیل اب لبنان کے جنوبی ساحلی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔

لبنانی وزیراعظم حسان دیاب کا دفتر اسرائیلی جہاز سے سمندر میں تیل بہنے کے معاملے کو دیکھ رہا ہے۔ وزیراعظم نے نگران کابینہ میں وزیر دفاع اور وزیر ماحول کے علاوہ قومی کونسل برائے سائنسی تحقیق کو لبنان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس (یونیفل) کو اس معاملے سے آگاہ کرنے کی ذمے داری سونپی ہے اور انھیں اس واقعہ کے بارے میں ایک رپورٹ تیار نے کی ہدایت کی ہے۔

لبنان میں قائم گرین پیس مڈل ایسٹ اور شمالی افریقا کی ڈائریکٹر پروگرام جولیاں ریساٹی نے وزارت ماحول پر زوردیا ہے کہ ’’وہ سمندر میں تیل رسنے کے خطرات کی فوری طور پر جائزہ رپورٹ تیار کرے اور اس کی نگرانی کے لیے ایک منصوبہ وضع کرے۔‘‘

انھوں نے لبنانی حکومت پرزور دیا ہے کہ وہ عوام بالخصوص ماہی گیری اور پیراکی کی سرگرمیوں کے لیے رہ نما ہدایات جاری کرے۔ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کے اخراج سے مشرقی بحر متوسط میں آبی حیات کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں بحرمتوسط کے مشرقی حصے میں تیل رسنے کا بڑا واقعہ 2006ء میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ کے وقت پیش آیا تھا۔ تب اسرائیلی فوج نے لبنان میں جیحہ پاوراسٹیشن پر بمباری کی تھی۔اس کے نتیجے اس پاور اسٹیشن سے بڑی مقدار میں تیل بہ کر بحر متوسط میں گرنا شروع ہوگیا تھا۔

بمباری سے اس پلانٹ کے ٹینکوں سے 30 ہزار ٹن تیل بہ کر سمندر میں چلا گیا تھا۔اس نے لبنان کی 170 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کو متاثر کیا تھا۔سمندر میں یہ تیل بہ کر ترکی اور قبرص تک پہنچ گیا تھا۔اس سے سمندرمیں آبی حیات اور ماحول کے لیے شدید خطرات پیدا ہوگئے تھے۔

اس واقعہ کے ردعمل میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2014ء میں ایک غیرپابند قرار داد منظور کی تھی اور اس میں اسرائیل سے لبنان کو 85 کروڑ ڈالر تیل کے نقصان کے ازالے کے طور پر ادا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جنرل اسمبلی کے 170 ارکان نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔چھے ممالک نے اس کی مخالفت کی تھی اور تین رائے شماری کے وقت غیرحاضر رہے تھے۔اسرائیل ، امریکا ، کینیڈا ، آسٹریلیا ، میکرونیشیا اور مارشل آئلینڈز نے اس قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دیا تھا۔