.

"علاقائی دفاتر کے لیے عالمی کمپنیوں کو ’نیم پلیٹ‘ سے بڑھ کر اپنا وجود ثابت کرنا ہو گا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزیر سرمایہ کاری خالد الفالح نے کہا ہے کہ ریجنل دفاتر کے حوالے سے کاغذی کارروائی کافی نہیں ہو گی البتہ جو کمپنیاں اپنے ریجنل دفاتر ریاض میں کھولیں گی انہیں متعدد ترغیبات حاصل ہوں گی۔

خالد الفالح نے ان خیالات کا اظہار معاصر عزیز عرب نیوز کے فلیگ شپ ویڈیو شو ’فرینکلی سپیکنگ‘میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جو کمپنیاں 2024 تک اپنے ریجنل دفاتر ریاض منتقل نہیں کریں گی ان کے ساتھ سرکاری لین دین بند کردیا جائے گا۔

وزیر سرمایہ کاری کا کہنا تھا کہ ہم اب بھی ان کمپنیوں کا خیر مقدم کریں گے جو ہمارے یہاں ریجنل دفاتر کھولنے میں دلچسپی ظاہر کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ ان کمپنیوں کے لیے پرائیویٹ سیکٹر میں بہت سارے مواقع ہیں۔ حکومت اس حوالے سے کوئی مداخلت نہیں کرے گی البتہ خارجی کمپنیوں کو سعودی پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ کام کی سہولتیں فراہم کرے گی۔

خالد الفالح نے خبردار کیا کہ ریجنل دفاتر کے حوالے سے کاغذی خانہ پری کافی نہیں ہوگی البتہ جو کمپنیاں اپنے ریجنل دفاتر ریاض میں کھولیں گی انہیں متعدد ترغیبات حاصل ہوں گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے سعودیوں کو خارجی کمپنیوں کے ریجنل دفاتر کی ریاض میں منتقلی سے فائدہ ہوگا۔

سعودی عرب چاہتا ہے کہ اعلی معیار کے بین الاقوامی ماہرین ہمارے یہاں قیام کا انتخاب کریں۔ اتنا ہی نہیں کہ وہ یہاں ملازمت کی وجہ سے سکونت پذیر اختیار کریں ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سعودی عرب میں اپنی رہائش رکھیں۔