.

ایران دھوکا دینے کے علاوہ جوہری ایجنسی کے کام کو برباد کر رہا ہے: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کا عمل تباہ کر رہا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ غابی اشکنازی نے آج بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم کی ذخیرہ اندوزی جاری ہے۔ وہ جوہری ہتھیاروں تک پہنچنے کا عمل خفیہ رکھ کر دھوکا دے رہا ہے۔ علاوہ ازیں ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے معائنے کا باقی ماندہ عمل برباد کرنے کے درپے ہے۔

اشکناری کے نزدیک تہران کے انتہا پسندانہ اقدامات فوری بین الاقوامی رد عمل کا تقاضا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ایران کی جانب سے جوہری تنصیبات کے معائنے کی کارروائیوں میں رخنہ ڈالنا اور اضافی پروٹوکول پر عمل درامد روکنا یہ انتہا پسندانہ اقدامات اور تمام سرخ لکیروں سے تجاوز ہے۔ ان سرخ لکیروں کو عالمی برادری نے وضع کیا تھا"۔

اشکنازی نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ "ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت کبھی نہیں دیں گے"۔

گذشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو بھی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ ان کا ملک ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے گا۔

ایران نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی کارروائیوں کو محدود کرنے پر گذشتہ روز سے عمل شروع کر دیا ہے۔ دوسری جانب ایجنسی کا کہنا ہے کہ تہران کے پاس اس وقت 20% کے تناسب سے افزودہ 17 کلو گرام یورینیم ہے۔ وہ اس سے ہر ماہ 15 کلو گرام یورینیم تیار کر رہا ہے۔

ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے پاس ذخیرہ شدہ افزودہ یورینیم کی مقدار ایجنسی کی جانب سے اجازت یافتہ حد سے 14 گنا زیادہ ہے۔