.

حزب اللہ کی کسی حماقت کا خمیازہ پورے لبنان کو بھگتنا پڑے گا: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے دھمکی آمیز الفاظ میں لبنانی حزب اللہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے اسرائیل کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے لیے کوئی قدم اٹھایا تو اس کے سنگین نتائج برآمدہوں‌گے اور حزب اللہ کی کسی بھی حماقت کا خمیازہ پورے لبنان اور لبنانی قوم کو بھگتنا پڑے گا۔

اسرائیلی وزیر دفاع بینی گینٹز نے ایک بیان میں کہا کہ حزب اللہ کی طرف سے ہماری سلامتی کے خلاف کیے گئے کسی بھی اقدام کا سخت جواب دیا جائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حزب اللہ کی طرف سے دی جانے والی دھمکیاں عملی شکل میں آتی ہیں تو اس کا نتیجہ حزب اللہ، لبنانی قیادت اور افسوس کے ساتھ پوری لبنانی قوم کو بھگتنا پڑے گا۔

انہوں‌ نے کہا کہ ہمارا جواب لبنانی قوم کے لیے انتہائی دردناک ہوگا۔ اگر حزب اللہ نے اسرائیل کے خلاف کارروائی میں عوام کو ڈھال بنانے کی کوشش کی تو ہم بے رحمی کے ساتھ اس کا جواب دیں‌گے۔ انہوں نے کہا کہ حزب اللہ کی شہری آبادی میں اسلحہ اور میزائل ذخیرہ کرکے عوام کو ڈھال بنانے کوشش کی ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کا ملک ایران کو شام میں اپنے پائوں جمانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایران کی مضبوط اسرائیل کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم شام اور لبنان میں پیچیدہ اور تباہ کن میزائل ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

منگل کو ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں ایران کے ساتھ طے پانے والے کسی بھی معاہدے پر کوئی اعتبار نہیں۔ ایرانی رجیم ایک انتہا پسند اور جنونی ہے۔ اسرائیل ایران کی جارح اور انتہا پسند کلاس کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے ہرقیمت پر روکے گا چاہے۔ ایران کو جوہری ہتھیاروں کےحصول سے روکنے کے لیے ہم ممکنہ اقدام کریں گے اور اہمیں اس چیز کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی کہ آیا ایران نے کوئی معاہدہ کیا ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ اسرائیلی حکومت کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے یہ تشویش اور دھمکی آمیز بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہےجب دوسری طرف امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے لچک دکھاتے ہوئے یورپی ممالک کے ساتھ معاہدے میں واپسی کے لیے بات چیت کی کوششیں شروع کی ہیں۔ امریکا نے ایران کو بتا دیا ہےکہ وہ پابندیاں اٹھانے سے قبل جوہری معاہدے کی شرائط اور اس کے پروٹوکول کی پابندی کرے تاہم ایران کا کہنا ہے کہ وہ پابندیاں اٹھائے جانے تک معاہدے کی تمام شرائط پرعمل نہیں کرے گا۔