.

سعودی عرب میں غاروں کے پُر اسرار رازوں سے پردہ اٹھانے کا منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ارضیاتی سروے کمیشن کے پُراسرار غاروں اور گھاٹیوں کا سروے کرنے کے ذمہ دار شعبے کے سربراہ محمود الشنطی نے زیرزمین غاروں کے تاریخی حقائق کا کھوج لگانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد مملکت میں موجود غاروں کا تعین کرنے اور انہیں سیاحوں اور زائرین کے لیے تیار کرنا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب کی سرزمین پراسرا تاریخی غاروں سے مالا مال ہے اور ان غاروں کی تاریخی اہمیت کے تعین اور ان کے پراسرار روازوں سے بھی پردہ اٹھانے اور ان کے حقائق سامنے لانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اسی سلسلے میں جیولوجیکل سروے کے غارو‌ں کے مطالعے کے ذمہ دار شعبے کے سربراہ محمود الشنطی نے العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شعبے کا غاروں کے بارے میں تاریخی اور دلچسپ حقائق سامنے لانےاور اس کے مستقبل کے اہداف کا تعین مملکت کے وژن 2030 کے اہداف کا حصہ ہے۔ غاروں کے مطالعے کے ذمہ دار شعبے کی طرف سے غاروں کے علمی اور سیاحتی استفادے کی خاطر مانیٹرنگ کا میکانزم اپنایا گیا ہے۔

غاروں کے بارے میں جان کاری حاصل کرنے اور انہیں سیاحتی مقاصد کے لیے کھولنے سے اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ نئی صنعتوں کے قیام کے موقعے سے بھی فائدہ اٹھایا جاسکے گا۔ صرف یہی نہیں بلکہ غاروں اور گھاٹیوں کے بارے میں معلوامات سے مملکت میں ارضیاتی قدرتی وسائل کی تلاش میں مدد ملے گی اور ان کے سائنسی اور سیاحتی اہمیت کے پہلو مزید نمایاں ہوں‌ گے۔

الشنطی کا کہنا تھا کہ ارضیاتی سروے نے غاروں کی نشاندہی کے بعد انہیں نقشوں پر لانا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین پیش کوشش تھری ڈی نقشوں کی تیاری ہے۔ غاروں کےسربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے ماہرین آثار قدیمہ سےبھی مدد لی جا رہی ہے۔ غاروں کے اندر سے پائے جانے والی اشیا، ہڈیوں اور پرانے دور میں انسانی استعمال کی چیزوں کا تجزیہ کرتےہوئے ان کی تاریخ کے بارے میں جان کاری حاصل کی جائے گی۔ ماہرین طبیعات اور حیاتیات کی مدد سے غاروں میں موجود پودوں اور جانداروں کے بارے میں بھی حقائق سامنے لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔