.

ایران سے مذاکرات میں خلیجی ممالک کوشامل کیا جائے:بحرینی ولی عہد،اسرائیلی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور بحرین کے ولی عہد شیخ سلمان بن حمد آل خلیفہ نے جمعرات کے روز ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے اور ایران کے ساتھ جوہری سمجھوتے پرآیندہ مذاکرات اور اسرائیل میں ویکسین کی تیاری کے لیے پلانٹ کے مجوزہ منصوبے میں خلیجی ممالک کی شمولیت کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔

نیتن یاہو اور ولی عہد شیخ سلمان خلیفہ نے اس ٹیلی فون کال سے متعلق الگ الگ بیانات جاری کیے ہیں لیکن صرف بحرین کے بیان میں ایران کا ذکر ہے۔

بحرین کے سرکاری میڈیا کے مطابق ولی عہد نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بات چیت میں خطے کے ممالک کو شامل کیا جائے۔

نیتن یاہو کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’وزیراعظم نے شیخ خلیفہ سے بحرین کے اپنے مجوزہ دورے کے بارے میں گفتگو کی ہے اور انھیں بتایا ہے کہ وہ کرونا وائرس کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ دورہ کریں گے۔‘‘

بیان کے مطابق ’’ بحرینی ولی عہد نے اسرائیل میں ویکسین کی تیاری کے پلانٹ کے مجوزہ منصوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ بحرین دوسرے ممالک کے ساتھ مل کراس مینوفیکچرنگ پلانٹ کے منصوبے میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔‘‘

بحرین اور متحدہ عرب امارات نے 15 ستمبر 2020ء کو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ طے کیا تھا اور اس کے ساتھ معمول کے سفارتی اور تجارتی تعلقات استوار کیے تھے۔اس معاہدے کے بعد اسرائیل کو رواں سال کے دوران میں بحرین سے 22 کروڑ کی تجارت کی توقع ہے۔اس میں دفاع اور سیاحت کے شعبوں میں سمجھوتے شامل نہیں ہیں۔

ان تینوں ممالک کے درمیان امن معاہدے میں امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ثالث کا کردار ادا کیا تھا۔قبل ازیں صدرٹرمپ نے ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو مئی 2018ء میں خیرباد کہہ دیا تھا اور اس کے خلاف سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

اب امریکا کے موجودہ صدر جو بائیڈن ایران سے 2015ء میں چھے عالمی طاقتوں کے طے شدہ جوہری سمجھوتے میں دوبارہ شمولیت کا عندیہ دے چکے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے ایران اس سمجھوتے کی تمام شرائط کو پورا کرے اور یورینیم کی اعلیٰ سطح پر افزودگی کا عمل روک دے۔

اسرائیل اور عرب ممالک اب امریکا پر یہ زور دے رہے ہیں کہ ایران سے آیندہ بات چیت میں انھیں بھی شامل کیا جائے اور اس سے کسی مجوزہ سمجھوتے میں دوسرے امور یعنی اس کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام اور خطے میں گماشتہ تنظیموں کے ذریعے مداخلت کو بھی شامل کیا جائے۔عرب ممالک اور اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں کئی بار اپنی تشویش کا اظہارکرچکے ہیں۔