اسرائیل وادی اردن میں فلسطینیوں کے مکانات گرانے اور ضبطی سے باز رہے: یو این

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ نے سلامتی کونسل میں یورپی ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وادی اردن میں بدوؤں کی بستی منہدم کرنے کا سلسلہ روک دے۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ حمصہ البقیع کے علاقے میں انسانی امداد پہنچانے کی اجازت دی جائے۔

یہ موقف جمعے کے روز نیویارک میں سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران میں سامنے آیا۔ اجلاس کے اختتام پر اسٹونیا، فرانس، آئرلینڈ، ناروے اور برطانیہ نے باور کرایا کہ "اسرائیل کی جانب سے انہدام اور املاک ضبط کرنے کی حالیہ کارروائیوں کے حوالے سے ہمیں نہایت تشویش ہے. ان کارروائیوں میں وادی اردن کے علاقے حمصہ البقیع میں یورپی یونین اور ڈونرز گروپ کی فنڈنگ والی تنصیبات بھی لپیٹ میں آئی ہیں"۔

مذکورہ علاقے میں بدوؤں کی کمیونٹی تقریبا 70 افراد پر مشتمل ہے جن میں 41 بچے ہیں۔

خطے کے لیے اقوام متحدہ کے ناروے سے تعلق رکھنے والے ایلچی ٹور وینسلینڈ نے سلامتی کونسل کے سامنے انہدام اور ضبطی کی اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "اسرائیل نے حمصہ البقیع میں فلسطینی بدوؤں کی کمیونٹی کی 80 عمارتیں منہدم یا ضبط کی ہیں. ان کارروائیوں کے سبب 36 بچوں سمیت 63 افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے"۔

وینسلینڈ نے مزید کہا کہ "میں اسرائیل پر زور دیتا ہوں کہ وہ مشرقی بیت المقدس سمیت مقبوضہ مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں فلسطینی املاک کو منہدم کرنے اور ضبط کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روک دے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں