.

ایران کا دو نئی جوہری تنصیبات کے قیام کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے ان کا ملک دو نئے جوہری پلانٹ پر کام کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے دو سال قبل ان نئی جوہری تنصیبات پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ایران کے سرکاری ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں علی اکبر صالحی نے کہا کہ تہران چوبیس گھنٹوں کے دوران یورینیم افزودگی میں اضافہ کرسکتا ہے۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ دونئی جوہری تنصیبات ایک میگا صنعتی منصوبہ ہے۔ اس منصوبے پر سرمایہ کاری کا حجم ۱۰ ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔

ایک سوال کے جواب میں علی اکبر صالحی نے اعتراف کیا کہ ایران نے چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کے پروٹوکول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یورینیم زیادہ مقدار میں افزودہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران چاہے تو یورینیم افزودگی کو چوبیس گھنٹوں کے دوران ساٹھ فی صد تک لے جاسکتا ہے۔

علی اکبر صالحی نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے کام کی بھی حدود ہیں۔ عالمی جوہری ادارے کو ایران کی جوہری توانائی ایجنسی کے خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔