.

لبنان:کووِڈ-19 کے خلاف جنگ میں نبردآزما نرسیں تعریف وتوصیف نہیں،بہترروزگارکی طلب گار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کی معیشت پہلے ہی زبوں حال تھی لیکن گذشتہ سال اگست میں بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن بم دھماکے اور کرونا وائرس کی وَبا نے اس کو اورزیادہ مشکلات سے دوچار کردیا ہے۔

مشرقِ اوسط کے اس ننھے ملک میں ابترمعاشی حالات کے پیش نظر اسپتالوں کے پاس کووِڈ-19 کے مریضوں کے علاج معالجے پر مامور ڈاکٹروں اور نرسوں کو تن خواہ ادا کرنے کے لیے رقوم نہیں اور وہ اپنے طبّی عملہ بالخصوص نرسوں کو ملازمتوں سے فارغ کررہے ہیں۔

لبنان میں نرسوں کی تنظیم کی صدر ڈاکٹر میرنا دومیت کے مطابق گذشتہ ایک سال کے دوران میں کم سے کم 600 نرسیں اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ تمام نرسیں نجی اسپتالوں میں اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے رہی تھی لیکن ان اسپتالوں کو خود مالی مسائل کا سامنا ہے۔چناں چہ وہ اپنے بجٹ کو پورا کرنے اور اداروں کو منافع بخش انداز میں چلانے کے لیے نرسوں کو ضرورت سے زیادہ قرار دے کر فارغ کررہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والی بیشتر نرسیں خود کووِڈ-19 کا شکار تھیں یا وہ اس مہلک وائرس کا شکار مریضوں کے علاج پر مامور تھیں۔اب اسپتالوں میں طبّی عملہ کی بہت تھوڑی تعداد رہ گئی ہے اور ان ہی سے جیسے تیسے کام چلایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں جامعات کی تعلیم وتربیت یافتہ بہت سے نرسیں اب بے روزگار ہیں یا وہ بہتر روزگار کی تلاش میں دوسرے ممالک میں چلی گئی ہیں۔ہمارے یہاں اسپتال اوردوسرے طبی ادارے نرسوں کے ساتھ جو کچھ کررہے ہیں، وہ بالکل ناقابل قبول ہے۔

ڈاکٹر دومیت کا کہنا تھا کہ ’’ہم اسپتالوں سے نرسوں کی بھرتی کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ نئی بھرتیوں کے لیے تیار نہیں ہیں۔ وہ صرف زیادہ سے زیادہ رقم بنانا چاہتے ہیں اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ بالخصوص لبنان کے شمال میں تو صورت حال بہت ہی ابتر ہے۔اسپتال نرسوں کی تن خواہوں میں ایک تہائی تک کٹوتی کررہے ہیں جبکہ اب ایک نرس کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مریضوں کی نگہداشت کرنا پڑتی ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’مشرقِ اوسط کے ممالک میں عجیب صورت حال ہے۔دوسرے ملکوں میں تو جامعات کی تعلیم یافتہ پیشہ ور نرسیں موجود ہی نہیں اور وہ سمندرپار سے نرسوں کو بھرتی کرتے ہیں جبکہ لبنان میں اس سے بالکل مختلف صورت حال ہے۔ یہاں جامعات کی تربیت یافتہ پیشہ ور نرسیں موجود ہیں لیکن ان کے لیے روزگار کے مواقع نہیں اور جو برسرروزگار ہیں، وہ انتہائی ناگفتہ بہ حالات میں کام کررہی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر دومیت کے بہ قول لبنان بھر میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں محاذاول پر خدمات انجام دینے والے طبی عملہ کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا جارہا ہے لیکن نرسیں صرف زبانی کلامی تعریف نہیں چاہتی ہیں اور وہ اپنے آجروں اور حکومت سے زیادہ مادی فائدہ دینے کا مطالبہ کررہی ہیں۔‘‘

لبنانی نرسوں کی تنظیم کی سربراہ نے بتایا کہ اس سال مزید 1200 نرسیں جامعات سے فارغ التحصیل ہو کر آرہی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ ان کو لبنان ہی میں روزگار ملے اور انھیں روٹی روزی کے لیے بیرون ملک نہ جانا پڑے۔