.

جتنے ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے سعودی عرب پر ہوئے کسی ملک پر نہیں ‌ہوئے:المالکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں‌آئینی حکومت کے دفاع کے لیے قائم عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئر ترکی المالکی نے کہا ہے کہ جتنے بیلسٹک اور بمبار ڈرون طیاروں سے سعودی عرب پر حملے کیے گئے ہیں کسی دوسرے ملک پرنہیں ہوئے تاہم سعودی عرب کے محکمہ دفاع اور عرب اتحاد نے یمن سے ہونے والے ان ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملوں میں سے بیشتر کو ناکام بنا دیا۔

سعودی محکمہ دفاع نے ہفتے کے روز یمن کے حوثی دہشت گردوں کی طرف سے دوگھںٹوں میں مملکت پر داغے گئے 6 حملے ناکام بنائے۔

العربیہ چینل سے بات کرتے ہوئے بریگیڈیئر المالکی نے کہا کہ حوثی دنیا کی واحد دہشت گرد تنظیم ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب کی معاونت سے غیرمعمولی عسکری صلاحیت رکھتی ہے اور اس کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔

المالکی نے مزید کہا کہ ایرانی جرنیل یمن میں حوثی باغیوں کو کٹھ پتلی کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یمن کا دارالحکومت صنعا ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کے قبضے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرب اتحاد کے پاس شہریوں کو درپیش سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت ہے۔ ان کا کہنا تھا معصوم شہری سرخ لکیر ہیں اور انہیں کسی قسم کی تکلیف نہیں پہنچنے دی جائے گی۔

بریگیڈیئر المالکی سعودی محکمہ دفاع اور عرب اتحاد نے گذشتہ کچھ عرصے کے دوران حوثیوں‌کے 526 ڈرون اور 346 بیلسٹک میزائل حملے ناکام بنائے ہیں۔ دنیا کا کوئی اور ملک ایسا نہیں جس پر اتنی تعداد میں ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے ہوئے ہوں اور انہیں ناکام بنا دیا گیا ہو۔