شام: عسکری خدمت یا 8 ہزار ڈالر ، بشار حکومت کی عوام پر کاری ضرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں سنگین مالی بحران کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بشار حکومت نقدی کے محفوظ ذخائر کی کمی کو بیرون ملک شامیوں کی جیبوں کے ذریعے پورا کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ذرائع اور طریقے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بیرون ملک موجود شامیوں کو مطلوب پاسپورٹ، ڈگریوں کی تصدیق اور دیگر دستاویزی امور کے حوالے سے فیسوں کی ادائیگی کا پابند کیا گیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے اتوار کے روز بتایا ہے کہ شامی حکومت کے زیر انتظام "ریکروٹمنٹ ڈائریکٹریٹ" نے ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق جس شہری کی عمر 42 برس سے تجاور کر گئی ہے اور اسے لازمی عسکری خدمت کی انجام دہی سے روک دیا گیا ہے ،،، اس سے مذکورہ خدمت کے بدلے مقررہ رقم وصول کی جائے گی۔ ایسے شہری سے 8 ہزار ڈالر یا اس کے مساوی شامی لیرہ وصول ہونے کے بعد اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی روک دی جائے گی۔

اقوام متحدہ کے مطابق شام میں 80% سے زیادہ شہری غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ عالمی ادارہ خوراک کے مطابق مئی 2019ء سے اب تک شام میں غذائی اشیاء کی قیمتوں میں 133% تک اضافہ ہو چکا ہے۔ مہنگائی نے شامیوں کی کمر توڑ دی ہے اور بشار حکومت ملک کو درپیش مالی بحران کا حل عوام کی جیبوں میں تلاش کر رہی ہے۔ شامی شہریوں کا روٹی، گیس اور ایندھن کے لیے قطاروں میں کھڑا ہونا معمول کی بات بن چکی ہے۔

ایسے میں جب کہ ہزاروں نوجوان لازمی عسکری خدمت کی انجام دہی سے راہ فرار اختیار کر ہے ہیں تا کہ وہ ملک میں جاری جنگ کی بھٹی میں نہ جھونکے جائیں ،،، بشار حکومت جبری فیس لاگو کر کے ان نوجوانوں کو درپیش بحران سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

نئے حکم کے مطابق جس شہری کی عمر 42 برس ہو گئی اور اس نے لازمی عسکری خدمت انجام نہیں دی وہ امریکی ڈالروں میں زر تلافی کی رقم ادا کرے گا۔ یہ فیصلہ ملک میں رائج قانون کی خلاف ورزی ہے۔ سال 2014ء میں جاری ہونے والے آرڈیننس کے مطابق شامی لیرہ کے علاوہ کسی بھی دوسری کرنسی میں لین دین ممنوع ہے۔ تاہم بشار حکومت اب اپنے ہی وضع کیے ہوئے قانون کی دھجیاں اڑانے کے درپے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں