عراق: احتجاجی مظاہرے میں بیٹے کی ہلاکت پر خاتون کا تدفین سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

عراق میں ایک خاتون شہری کی وڈیو سامنے آئی ہے جو ناصریہ میں احتجاج کے دوران اپنے 12 سالہ بیٹے کی ہلاکت پر غم کی شدت سے چلاتی نظر آ رہی ہے۔

مذکورہ خاتون نے اپنے بیٹے کے قاتلوں کے انکشاف سے قبل اس کی تدفین کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ خاتون نے کہا کہ "ان کا چھوٹا سا بیٹا بنا کسی وجہ احتجاج کے دوران مارا گیا۔ وہ نہ تو سیاسی کارکن تھا اور نہ اس کے پاس کوئی ہتھیار تھا۔ اس نے کوئی چوری بھی نہیں کی تھی"۔

عراقی خاتون نے ملک میں اہم ترین شیعہ مذہبی مرجع علی السیستانی سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری مداخلت کر کے خاتون کے بیٹے کے قاتلوں کا پتہ چلائیں اور انہیں قرار واقعی سزا دلوائیں۔ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے اور دیگر تمام متاثرہ افراد کا حق لیے بغیر تدفین نہیں کرے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ چند گھنٹوں میں ناصریہ میں پھر سے مظاہرے بھڑک اٹھے ہیں۔ اس دوران میں 40 سے زیادہ مظاہرین اور سیکورٹی اہل کار زخمی ہو گئے۔

ادھر عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے گذشتہ تین روز کے دوران میں ناصریہ شہر میں پیش آنے والے واقعات کی تحقیق کے لیے ایک اعلی سطح کی کمیٹی کی تشکیل کا حکم دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں