.

دنیا میں مہنگی ترین 'بِشت' کی کہانی، سعودی کاری گر کی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں الاحساء کا علاقہ سیکڑوں برسوں سے ہاتھوں سے تیار کی گئی "بِشت" (عرب دنیا میں مردوں کا مشہور پہناوا) کے سبب مشہور ہے۔ علاقے کے مقامی کاری گر 'حبیب بو خضر' سنہرے دھاگوں کے ساتھ اعلی ترین معیار کی بشت تیار کرنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ الاحساء کی بشت کو دنیا بھر میں مہنگا ترین شمار کیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے حبیب بو خضر سے خصوصی ملاقات کی۔ بشت کی تیاری سے عشق کرنے والے بو خضر اس پیشے میں 40 برس سے زیادہ عرصہ گزار چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ "میں نے بچپن سے ہی اپنے گھرانے کو اس پیشے سے وابستہ دیکھا۔ گھر والوں نے اس کا عشق ہم تک منتقل کیا۔ الاحساء میں تیار کی جانے والی "حساوی بشت" کے مہنگا ہونے کی وجہ اس کی تیاری میں استعمال ہونے والا اعلی ترین معیار کا کپڑا، دھاگا اور اس کا منفرد ڈیزائن ہے"۔

بو خضر نے مزید بتایا کہ "اس بشت کی تیاری میں استعمال ہونے والے دھاگے درحقیقت چاندی سے تیار ہوتے ہیں۔ حساوی بشت کی قیمت ڈیزائن اور کپڑے کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ اس بشت کی قیمت 3000 ریال (تقریبا 1.25 لاکھ روپے) سے 10000 ریال (4.25 لاکھ روپے) کے درمیان ہوتی ہے"۔

بشت کی تیاری میں چاندی اور سنہرے رنگ کے دھاگے استعمال ہوتے ہیں۔ ایک بشت 15 روز میں تیار ہو جاتی ہے۔ ہاتھوں سے سلائی مکمل ہونے کے بعد "برداخ" (بشت کو چمکانے) کا عمل شروع ہوتا ہے۔ حالیہ عرصے میں بشت کا استعمال مردوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ خواتین کے لیے بھی امتیازی شان کی علامت بن چکی ہے۔

بو خضر کہتے ہیں کہ "دست کاری میں الاحساء کو سعودی عرب کے بقیہ علاقوں میں امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ ایک طویل عرصے تک یہ پیشہ اس علاقے میں پھیلا رہا تاہم اس فن کے مشکل ہونے کے سبب اب یہاں اس میں دل چسپی کم ہو گئی ہے"۔

بشت کے ماہر سعودی کاری گر نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ "میں 40 برس سے زیادہ عرصہ اس پیشے میں گزار چکا ہوں اور میرے سیکھنے کا عمل جاری ہے۔ میں نے بے شمار ایونٹس میں شرکت کی۔ ان میں نمایاں ترین لندن میں سعودی سفارت خانے میں قومی دن کی تقریب، ریاض میں الجنادریہ میلہ اور شارقہ میں تاریخی ورثے کا میلہ شامل ہے"۔