.

اسرائیل خلیجی اتحادیوں سے خصوصی سکیورٹی انتظامات چاہتا ہے: وزیردفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل اپنے خلیجی عرب اتحادیوں کے ساتھ کوئی دفاعی سمجھوتا نہیں بلکہ خصوصی سکیورٹی انتظامات چاہتا ہے۔

یہ بات اسرائیلی وزیردفاع بینی گینز نے اسرائیل اور غزہ کے درمیان سرحد پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے اسرائیل کے سرکاری ریڈیو ’کان‘ کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے جس میں اس نے کہا تھا کہ ’’خلیجی عرب ممالک کے ساتھ ایک دفاعی سمجھوتے پر غور کیا جارہا ہے۔‘‘بینی گینز نے کہا کہ اس کے بجائے سکیورٹی تعلقات استوار کیے جائیں گے۔

انھوں نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’میرا نہیں خیال کہ یہ کوئی دفاعی معاہدہ ہوگا بلکہ ہم ہر اس ملک کے ساتھ دفاعی تعلقات استوار کرنا چاہتے ہیں جس سے ہمارے تعلقات استوار ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’اس ضمن میں ہمارے پاس خصوصی سکیورٹی تعلقات کے قیام کا عمل ہے اور اس انتظام میں ہم اپنے تعلقات جاری رکھ سکتے ہیں۔‘‘تاہم انھوں نے ان سکیورٹی انتظامات کی مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ اسرائیل نے امریکا کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو لاک ہیڈ مارٹن کے ساختہ 50 ایف 35 لڑاکا جیٹ فروخت کرنے کی مخالفت نہیں کی تھی۔امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے اقتدار کے آخری ایام میں یو اے ای کو یہ لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی منظوری دی تھی لیکن اب صدرجوبائیڈن کی انتظامیہ اس سودے پر نظرثانی کررہی ہے۔

بینی گینز سے جب اس ڈیل کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کی فوجی برتری برقرار رکھی جانی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ لڑاکا طیارے تو پہلے ہی اسرائیلی فضائیہ کے فلیٹ میں شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے گذشتہ سال ستمبر میں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ معمول کے سفارتی تعلقات استوار کرنے کے لیے معاہدۂ ابراہیم پر دست خط کیے تھے۔اسی کے تحت اسرائیل اور یواے ای نے ایران سے درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے دفاعی اور فوجی تعاون کو بڑھانے کی تجویز پیش کی ہے۔دونوں ملکوں کے درمیان اب تک مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے متعدد سمجھوتے طے پاچکے ہیں۔