.

سعودی عرب میں شاہین کی نایاب نسلوں کے بچاؤ کا اہم پروگرام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے فالکن کلب نے 'ھدد' پروگرام پرعمل درآمد یقینی بناتے ہوئے شکرے اور پہاڑی شاہین کی نسل کے بچاؤ کے لیے انہیں قدرتی ماحول فراہمی کے اہم اقدامات کیے ہیں۔ یہ دونوں ایسے پرندے ہیں جن کا عربوں کے ساتھ ایک قدیم تعلق ہے۔ یہاں تک کہ ان پرندوں کی پرورش اور انہیں شکار سمیت مختلف مقاصد کے لیے استعمال کرنا عرب ثقافت کا حصہ بن چکا ہے۔

سعودی عرب میں‌ مقامی سطح پر شکرے اور پہاڑی شاہین کی آباد کاری کے لیے فالکن کلب کی طرف سے ایک پروگرام شروع کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد مملکت میں شاہین کی نایاب ہوتی نسل کو بچانا اور انہیں مناسب اور متوازن ماحول فراہم کرنا ہے۔

شاہین جیسے پرندوں اور عرب باشندوں کا آپس میں زمانہ قدیم سے گہرا تعلق ہے۔ یہاں تک یہ تعلق عرب ثقافت اور کلچر کا حصہ بن گیا۔ شاہین کے ذریعے شکار آج کا نہیں بلکہ صدیوں‌ پرانا طریقہ ہے۔

چونکہ سعودی عرب جنگی حیات کے لیے موزوں متنوع اور وسیع قدرتی ماحول کا حامل ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں پر شاہین اور دوسرے پرندوں کی نسلوں کے بچاؤ کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔ سعودی عرب میں 'شاہین کلب' اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ قومی مرکز برائے تحفظ جنگلی حیات، قدرتی اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اسپیشل فورس جیسے ادارے نایاب ہونے والے پرندوں کی نسل بچانے کے لیے کام کررہے ہیں۔

حکومت نے مقامی سطح پر شاہین کو پکڑنے پر اس وقت پابندی لگائی جب 'الوکری' یعنی شکرے اور پہاڑی شاہین کی نسل میں غیرمعمولی کمی دیکھی گئی۔ حکومت نے شاہین کی ان دونوں اقسام کو بچانے کے لیے'ھدد' پروگرام کا اطلاق کیا جس کا مقصد شکرے اور پہاڑی شاہین کی دوبارہ آباد کاری اور ان کی نسل کو پروان چڑھانا ہے۔

شکرے کو مقامی سطح‌پر الوکری کہا جاتا ہے۔ عرب باشندے اس باز کو شکار کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ جزیرۃ العرب میں یہ شاہین بہت زیادہ گرمی میں زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ شاہین کئی روز تک بھوکا اور پیاسا بھی رہ سکا۔ موسم سرما کے آغاز میں لوگ اس شاہین کو پکڑتے ہیں اور اسے قریبی پہاڑی علاقوں میں چھوڑا جاتا ہے۔

جہاں تک پہاڑی شاہین کا تعلق ہے کہ تو وہ دنیا کا تیز ترین پرندہ ہے جو 320 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے اڑ سکتا ہے۔ سعودی عرب میں اس کی 19 اقسام ہیں۔ جزیرۃ العرب میں اس کی دو اہم اقسام ہیں۔ ایک پہاڑی اور دوسری سمندری کہلاتی ہے۔ سمندری شاہین سردیوں کے آغاز میں مختلف ممالک سے ھجرت کرکے عرب دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ پہاڑی شاہین گہری رنگت کا ہوتا ہے۔ سعودی عرب میں اس کے شکار پرپابندی عاید ہے۔