.

سعودی عرب کی مچھلی کی مصنوعات کی برآمدات 45 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت ماحولیات ، پانی اور زراعت نے انکشاف کیا کہ مملکت میں مچھلی کی مصنوعات کی برآمدات کا حجم 2020 کے آخر تک 45 ہزار ٹن سے تجاوز کرگیا۔ وزارت ماحولیات وزراعت کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سے مچھلی کی مصنوعات کو چین ، روس ، امریکا ، جاپان ، آسٹریلیا ، سنگاپور اور جنوبی کوریا سمیت 53 ممالک کو برآمد کیا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں فشریز سیکٹر کی ترقی کے قومی پروگرام کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر علی الشیخی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وزارت ماحولیات ، پانی اور زراعت کی ترقی کے قومی پروگرام کے ذریعےماہی گیری کے شعبے میں سعودی عرب میں آبی زراعت کی صنعت کو اپ گریڈ کرنے کے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔ فشریز کے شعبے کو مزید ترقی دینے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہی گیری کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے موزوں مقامات کی نشاندہی کرنے کے لیے ایک سمندری سروے کیا گیا۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کو مچھلی منڈی تک رسائی دینا اور ان کی کارکردگی میں اضافے کے ساتھ ماہی گیری کے معیار کو عالمی سطح تک پہنچانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماہی گیری کے شعبے کو فعال اور ترقی دینے اور اسے عالمی معیار پر لانے کے لیے وزارت ماحولیات نے سخت قواعد و ضوابط نافذ کیے ہیں۔ اس ضمن میں ایک بائیوسیکیوریٹی سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس کا مقصد آبی زراعت کی صنعت میں بہترین طریقوں کے اطلاق کو یقینی بناتا ہے۔

الشیخی نے مزید کہاکہ سعودی عرب نے دو بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ مقامی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی ہے۔ ایک کمپنی ناروے کی کی ہے جس کے ساتھ مل کر آبی زراعت میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور دوسری سوئس کمپنی ہے جو آبی زراعت کی صنعت میں ترقی کے لیے سائنسی تحقیق میں سرمایہ کاری کررہی ہے۔ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں 15 واضح ساحلی مقامات ہیں جہاں پر فشریز کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جا سکتی ہے۔