.

سعودی عرب: مرکز بنی مالک کو 'حجاز کا ہیرا' کیوں کہا جاتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی طائف گورنری میں واقع مرکز بنی مالک کے پہاڑی علاقے کو پرانے زمانے سے لوگ 'حجاز کا ہیرا' کہتے چلے آئے ہیں۔اپنے بے نظیر سرسبز وشاداب قدرتی مناظر کی بہ دولت مرکز بنی مالک ہرسیزن میں سیاحوں کی توجہ کا مرکز مانا جاتا ہے۔ اس کی بلند وبالا چوٹیوں پر موسم سرما میں بھی سبزے کا بچھوںا اور ہرے بھرے اور لہلاتے جنگلات، ان کے درمیان بہتے ندی نالے اور میٹھے پانی کے سدا بہار چشمے جنت کا منظر پیش کرتے ہیں۔

سعودی عرب کے ایک مقامی فوٹو گرافر محمد المالکی نے 'حجاز کے ہیرے' قرار دیے جانے والے علاقے کا دورہ کیا اور اس کی وادیوں اور سرسبز مقامات کے نظاروں کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرنے کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے عوام الناس کے سامنے پیش کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سعوی مورخ حمدان المالکی نے بنی مالک کے بارے میں بتایا کہ بنی مالک کا علاقہ دو انتظامی مراکز پر مشتمل ہے۔ ایک مرکز حداد اور دوسرا القریع کہلاتا ہے۔ بنی مالک کا علاقہ میسان گورنری کے تحت ہے۔ یہاں کے یادگار مقامات میں جلیل القدر صحافی جریر بن عبداللہ البجلی کے نام سے ایک مسجد بھی قائم ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌نے کہا کہ بنی مالک اپنے سرد موسم، سرسبز و شاداب نظاروں اور موسم گرما میں موسلا دھار بارشوں اور اعتدال پسند موسم کی وجہ سے مشہور ہے۔یہاں پر کئی ایک سیاحتی مقامات ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ مشہور جبل ابراہیم جسے 'بثرہ' بھی کہا جاتا ہے۔ دوسرا اہم سیاحتی مقام جبل الابیض ' کوہ سفید' ہے۔ ان کے علاوہ غدیر الجمل، کید، وادی، والموارید اور جبل العصیدہ بھی اہم سیاحتی مقامات ہیں۔

بنی مالک ایک زرعی علاقہ ہے جہاں مکئی سمیت کئی اجناس کی کاشت کی جاتی ہیں۔ خاکستری رنگ کے بادام، انار ، انگور ، آڑو ، خوبانی ، انجیر اور ناشپاتی کاشت کیے جاتے ہیں۔ یہ شہد اور دیسی گھی کے لیے بھی مشہور ہے۔