.

شامی کرنسی کی قیمت ڈالر کے مقابلے میں 99 فی صد گر گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ کئی سال سے مسلسل زوال کا شکار شام کی قومی کرنسی لیرہ گذشتہ روز دھڑام سے مزید نیچے جا پہنچی۔ خبر رساں ادارے 'ے ایف پی' کے مطابق گذشتہ روز شامی لیرہ کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت 99 فی صد گر گئی جس کے بعد امریکی ڈالر کی قیمت 4 ہزار لیرہ کے برابر ہو گئی ہے۔

خیال رہے کہ شام گذشتہ 10 سال سے جاری خانہ جنگی کے باعث بدترین معاشی بحران کا بھی سامنا کررہا ہے۔ کوویڈ 19 نے شامی معیشت کے ساتھ ساتھ اس کے پڑوسی لبنان کی معیشت کو بھی تباہی سے دوچار کیا ہے۔

منگل کے روز لبنانی لیرہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید نیچے چلے جانے کے بعد 10 ہزار لیرہ ایک ڈالر کے برابر ہوگیا۔

شامی کاروباری شخصیات نے 'اے ایف پی' سے ٹیلیفون پر بتایا کہ شامی لیرہ کی قیمت بلیک مارکیٹ میں ایک ڈالر کے مقابلے میں چار ہزار تک جا پہنچی ہے۔

کرنسی مارکیٹ ویلیو پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق دمشق میں ایک امریکی ڈالر کے برابر لیرہ کی قیمت 3900 اور 4 ہزار کے درمیان گردش کر رہی ہے۔

ایک کاروباری شخص نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈالر اور شامی لیرہ کی مالیت میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے لگتا ہے کہ شامی لیرہ بھی لبنانی کرنسی کی طرح ڈالر کے مقابلے میں تیزی کے ساتھ زوال پذیر ہے۔

شامی لیرہ کی قیمت کی ڈالر کے مقابلے میں کمی کی نئی لہر رواں سال جنوری میں شروع ہوئی تھی۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایک ڈالر کے بدلے میں 3500 شامی لیرہ فروخت کیے جاتے رہے جب کہ شام کے سرکاری مرکزی بنک کی طرف سے ایک ڈالر کے مقابلے میں 1256لیرہ مقرر کی گئی ہے مگر بلیک مارکیٹ میں ڈالر کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدا اور فروخت کیا جا رہا ہے۔ سال 2011ء کے بعد شامی لیرہ کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت بلیک مارکیٹ میں 99 فی صد تک گر چکی ہے۔