.

سعودی عرب کے مشرقی ضلع قطیف میں قدیم تعمیرات کس نوعیت کی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مشرقی صوبے "الشرقیہ" میں قطیف کے لوگوں نے پرانے وقتوں میں اپنے گھروں کی تعمیر میں سمندری مرجانی پتھروں یا نمک کے پتھروں کا استعمال کیا۔ سورج کی جھلسانے دینے والی دھوپ بعض اوقات ان گھروں کی دیواروں کو ڈھا دیتی تھی۔ اسی وجہ سے مقامی آبادی اپنے گھروں پر بار بار پانی کا چھڑکاؤ کرتی تھی تا کہ دیواریں ٹھوس رہیں۔

مقامی استاد 'اسماعیل آل ہجلس' ٹیکنیکل ٹریننگ کی تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور اسی میں رہتے ہوئے ریٹائر ہوئے۔ انہوں نے قطیف ضلع میں عوامی دیہات کے اندر تاریخی ورثے کی حامل عمارتوں کو تصویری شکل میں محفوظ کیا۔ اس کا مقصد دیہات کے ان گھروں کے تعمیراتی جمال کو اجاگر کرنا ہے۔ ان گھروں کو علاقے میں آنے والے سیاحوں کی بھرپور پذیرائی اور توجہ حاصل ہوتی ہے۔ اس کام نے اسماعیل کو قطیف میں تاریخی تعمیراتی ورثے میں دل چسپی رکھنے والا محقق بنا دیا۔

اسماعیل کہتے ہیں کہ "قطیف میں تعمیرات میں استعمال ہونے والا یہ مقامی مواد جذب کرنے کی خصوصیت رکھتا ہے۔ یہاں رطوبت کی صورت میں بھرپور پانی ذخیرہ ہو جاتا ہے۔ اس طرح گرم موسم میں گھر کے اندر بلند درجہ حرارت میں کمی واقع ہوتی ہے"۔

سعودی استاد نے واضح کیا کہ "قطیف میں تاریخی گھروں کی تعمیر 450 سال پرانی ہے۔ یہ گھر ایسے مواد کے ساتھ بنائے گئے جو قدرتی ماحول کے لیے مناسب ہوتا ہے۔ قطیف میں ان پرانے گھروں کی تعمیر کے دوران نقش و نگار کا بھی خیال رکھا گیا۔ آرائشی ڈیزائن کی نوعیت اور ان کا حجم ایک عمارت سے دوسری عمارت اور ایک مقام سے دوسرے مقام تک مختلف نظر آتا ہے۔ اس میں عربی تحریر کا عنصر بھی نمایاں ہوتا ہے۔ عربی تحریر میں آیت الکرسی، معوذتین، شاعری اور حکیمانہ اقوال شامل ہیں۔ مذکورہ مواد کمروں اور مساجد کے دروازوں پر تحریر ہے"۔

اسماعیل آل ہجلس کے مطابق "قطیف میں سماجی، ثقافتی اور اقتصادی زندگی میں لکڑی کے دروازوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ ان دروازوں پر موجود تحریر اور نقش و نگاری قطیف کے دست کاری کے شعبے میں قدیم ترین فنون میں شمار ہوتی ہے"۔

اسماعیل نے مزید بتایا کہ "قطیف کی عمارتوں میں در اور محرابوں کا بھرپور استعمال نظر آتا ہے۔ یہاں تکون کے بعد دائرہ تعمیرات کی طاقت ور ترین صورت شمار ہوتا ہے۔