.

عراق میں عین الاسد فوجی اڈے پر میزائل حملوں میں حزب اللہ کا ہاتھ ہوسکتا ہے: امریکی حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چند روز پیشتر عراق کے صوبہ الانبار میں قائم عین الاسد فوجی اڈے پر 10 میزائل حملوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ دوسری طرف امریکی حکام نے امکان ظاہر کیا ہے کہ عین الاسد فوجی اڈے پر حملوں میں ایرانی حمایت یافتہ ایک گروپ ملوث ہے جو پہلے بھی عراق میں امریکی تنصیبات پر حملوں میں پیش پیش رہا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے دو عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عراق میں سرگرم ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا گذشتہ ہفتے عین الاسد فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں ذمہ دار ہوسکتی ہے۔

اسی سیاق میں امریکی سینیٹر اور سینیٹ میں خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین پوپ مینیڈیز نے کہا ہے کہ عین الاسد فوجی اڈے پرحملوں میں ایرانی ایجنٹ ملوث ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنے علاقائی عسکریت پسند گروپوں کو حملوں کے لیے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے اور وہ آئے روز حملے کررہے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ان گروپوں کو سزا دی جائے۔

ادھرامریکی حکام نے کہا ہے کہ عین الاسد فوجی اڈے پر ہونے والامیزائل حملہ ماضی میں حزب اللہ بریگیڈ کے حملوں سے کافی حد تک مشابہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عراق میں ان گنت شیعہ ملیشیائیں موجود ہیں جو ایران کے اشاروں پر کام کر رہی ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے عراق میں عین الاسد فوجی اڈے پر 10 میزائل داغے گئے تھے۔ اس فوجی اڈے پرعراق میں تعینات 2500 فوجی موجود ہیںجو عراق میں 'داعش' کے خلاف لڑ رہےہیں۔

ان میزائل حملوں کے نتیجے میں ایک سول کنٹریکٹر ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔

چند ہفتوں کےدوران یہ چوتھا حملہ ہے جو مبینہ طورپر عراق میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کی طرف سے کیا گیا ہے۔ گذشتہ ہفتے کے آخر میں شام میں امریکی فوج نے ایک ایرانی حمایت یافتہ گروپ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے باوجود عراق میں ان گروپوں کی سرگرمیوں اور‌حملوں میں کمی نہیں آئی۔

امریکی وزارت دفاع 'پینٹاگان' کا نے گذشتہ روز ایک مختصر پریس بیان میں کہا تھا کہ اگر عراق میں اضافی نفری تعینات کی جاسکتی ہے۔ وزارت دفاع کے ترجمان جان کیربی نے کہا کہ عین الاسد فوجی اڈے پرحملے کی تحقیقات کے بعد عراق کسی قسم کی جوابی کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ وہ عین الاسد فوجی اڈے پر حملے کے اثرات کا جائزہ لے رہا ہے۔ ایک بیان میں وائٹ ہائوس کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت محسوس تو ہوکوئی بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

درایں اثنا مغربی سیکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ عین الاسد فوجی اڈے پر حملے میں استعمال ہونے والے میزائل ایران کے 'آرش' طرز کے ہیں۔ عراق میں مغربی ملکوں کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں یہ میزائل پہلے بھی استعمال کیے جاتے رہے ہیں اور یہ انتہائی پیچیدہ میزائل ہیں۔