.

ایرانی عہدے دار کے "مذاکرات میں واپسی" سے متعلق بیان نے تنازع پیدا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سکریٹری محسن رضائی کے حالیہ بیان نے ملک میں ایک نئے تنازع کو جنم دے دیا۔ رضائی 16 برس تک ایرانی پاسداران انقلاب کے قائد رہ چکے ہیں۔ وہ آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے ممکنہ امیدوار بھی ہیں۔

رضائی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر اس بات کا واضح اشارہ پیش کیا گیا کہ ایک سال کے اندر تہران پر سے پابندیاں اٹھا لی جائیں گی تو ایران امریکا اور مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے تیار ہے۔

رضائی کا شمار ملک میں نمایاں ترین قدامت پسند شخصیات میں ہوتا ہے۔ برطانوی اخبار "فنانشل ٹائمز" کو انٹرویو میں انہوں نے کہا "وہ ہمیں اس بات کی ضمانت دے سکتے ہیں کہ مشترکہ جامع عملی منصوبے (جوہری معاہدے) کے بعد عائد کی گئیں تمام پابندیاں ایک سال کے اندر اٹھا لی جائیں گی ،،، اس کے ساتھ وہ ہم سے مذاکرات کی جانب لوٹنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں"۔

رضائی کا یہ بیان اب تک کا واضح ترین اشارہ ہے کہ ،،، کبھی کبھار علانیہ جارحانہ مواقف کے اظہار کے باوجود تہران امریکا کے ساتھ مذاکرات کا خواہش مند ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا ہے کہ جوہری معاملے اور دیگر امور سے متعلق صرف وزارت کی جانب سے جاری سرکاری بیانات ہی حکومتی مواقف شمار ہوں گے۔

محسن رضائی کے مطابق بات چیت کے دوران ہر ماہ بعض اہم پابندیوں کا خاتمہ سامنے آنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرونی بینکوں میں موجود ایران کے اربوں ڈالروں کو آزاد کرانے کے سلسلے میں امریکی مدد ایران کے لیے "مٹھائی" کی مانند ہے۔ ان کی مراد نیک نیتی کے جذبے کا اظہار یا چھوٹا سا تحفہ تھا۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے باور کرایا ہے کہ اس معاملے میں محسن رضائی نہیں بلکہ وزیر خارجہ محمد جواد ظریف "ذمے دار" ہیں ،،، رضائی کے پاس کسی قسم کی بلا واسطہ یا بالواسطہ ذمے داری نہیں ہے۔

یاد رہے کہ جواد ظریف نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک جوہری معاہدے پر مذاکرات کے لیے واپس نہیں لوٹے گا۔ اپنی ٹویٹ میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے منشور میں تبدیلی، ویٹو پاور کے خاتمے اور جامع مشترکہ عملی منصوبے (جوہری معاہدے) پر عمل درامد کے بغیر مذاکرات کی جانب واپس آنا ممکن نہیں۔