.

شام: بشار حکومت کی چوکیاں "سونے کا انڈا دینے والی مرغیاں" بن گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں ڈالر سے لے کر روٹی تک اور ایندھن سے لے کر کرونا تک متعدد بحرانات نے عوام کی کمر توڑ دی ہے۔

اس سلسلے میں بشار حکومت کی جانب سے نئی کارستانی سامنے آئی ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ دمشق کے دیہی علاقے میں الغوطہ الشرقیہ کے شہروں اور دیہات کے داخلی راستوں پر پھیلی حکومتی چیک پوسٹوں نے دارالحکومت دمشق سے آنے والے ایندھن کے تمام ٹینکروں پر جبری مالی چنگی (بھتّہ) عائد کر دی ہے۔

اس حوالے سے فضائی انٹیلی جنس اور عسکری سیکورٹی کے درمیان مشترکہ "النور چیک پوسٹ" پر ایندھن کے ہر ٹینکر سے اس کے حجم کے لحاظ سے 50 ہزار سے 3 لاکھ شامی لیرہ بٹورے جا رہے ہیں۔

المرصد نے واضح کیا کہ بعض مرتبہ چیک پوسٹ پر موجود عناصر ٹینکروں سے ایندھن کی کچھ مقدار نکال لیتے ہیں۔

دوسری جانب بشار حکومت کے زیر انتظام عسکری پولیس نے فروری کے اواخر سے الغوطہ الشرقیہ میں لازمی بھرتی کی مہم جاری رکھی ہوئی ہے۔ مرکزی اور ذیلی شاہراہوں پر عارضی چوکیاں قائم کر کے پیدل راہ گیروں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ان افراد کو عسکری خدمت انجام دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

المرصد کے ذرائع کے مطابق شامی حکومت کے عناڈر نے گذشتہ دنوں کے دوران میں سقبا، جسریں، حموریہ، کفر بطنا اور حزہ کے علاقوں میں روٹی کے تنوروں پر موجود قطاروں کو ہدف بنایا۔ اس دوران میں قطار میں کھڑے 57 نوجوانوں کو لازمی عسکری خدمت کی انجام دہی کے واسطے گرفتار کیا گیا۔