.

عرب اتحاد نے 24 گھنٹوں کے دوران سعودی عرب پر حوثیوں‌ کے 8 ڈرون حملے ناکام بنا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کے دفاع کے لیے کام کرنے والے عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈییر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ اتحادی فوج اور سعودی محکمہ دفاع نے یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر داغے مزید دو ڈرون طیارے تباہ کر دیے۔

ان ڈرون طیاروں کی مدد سے سعودی عرب کے سرحدی شہروں خمیس مشیط اور جازان میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ اتحادی فوج نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران حوثی ملیشیا کے سعودی عرب پر چھوڑے گئے 8 بمبار ڈرون تباہ کیے۔

ترکی المالکی نے بتایا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی طرف سے سعودی عرب میں شہری آبادی کو نشانہ بنانے اور انہیں جانی اور مالی نقصان پہنچانے کی مذموم سازشیں کی جا رہی ہیں۔ تاہم عرب اتحاد حوثیوں کی دہشت گردی کے خلاف پوری طرح چوکس ہے اور ڈرون طیاروں اور جنگی بیلسٹک میزائلوں سے ہونے والے حملوں کو ناکام بنایا جا رہا ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران حوثی ملیشیا کے 8 ڈرون حملے ناکام بنائے۔

قبل ازیں عسیر کے علاقے میں شہری دفاع کے ترجمان محمد بن عبدہ السید نے بتایا تھا کہ جمعہ پانچ مارچ کو حوثیوں کے ڈرون کو نشانہ بنایا گیا جس کے ٹکڑے خمیس مشیط میں گرے۔ تباہ ہونے والے ڈرون طیارے کے ٹکڑے گرنے سے 10 سالہ ایک بچہ زخمی ہوگیا۔

ترکی المالکی نے ان ڈرون طیاروں کے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ عرب اتحاد حوثیوں کی دہشت گردی کے باوجود صبرو تحمل سے کام لے رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر ڈرون طیاروں سے حملے کرنا کھلا جنگی جرم ہے۔ سعودی عرب میں شہری آبادی پر بیلسٹک میزائلوں اور بمبار ڈرون طیاروں سے حملے کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق اور اخلاقی اور قانونی اصولوں کی توہین ہے۔

عرب اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے کہا کہ عرب اتحادی فوج مستند انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر حوثی باغیوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ساتھ ان کی طرف سے سعودی عرب پر ہونے والے حملوں کی روک تھام کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔