.

عراق: پوپ فرانسیس داعش سے واگذار کرائی گئی موصل کی اراضی پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں موجود پوپ فرانسس نے آج اتوار کے روز موصل شہر کے دورے کا آغاز کیا۔

اس موقع پر پوپ نے حوش البیعہ چرچ میں موصل کی جنگ کے متاثرین کے لیے دعا کی۔ پوپ نے سفید کبوتر بھی فضا میں چھوڑا جو امن کی علامت ہے۔ انہوں نے موصل میں ہلاک شدگان کے لیے یادگاری تنصیب کا افتتاح کیا۔ پوپ نے باور کرایا کہ "امید موت سے زیادہ طاقت ور ہے اور امن جنگ سے زیادہ قوت رکھتا ہے"۔

اتوار کے روز موصل میں خطاب کرتے ہوئے پوپ فرانسیس نے کہا کہ "یہ نہایت سنگ دلی کی بات ہے کہ تہذیبوں کے مرکز اس ملک کو غیر انسانی آندھی کا سامنا کرنا پڑا جس نے قدیم عبادت کے کردار کو برباد کر ڈالا"۔

پوپ فرانسیس بکتر بند گاڑی میں سوار ہو کر اس چرچ پہنچے جو 2017ء میں موصل سے داعش تنظیم کو نکال دینے کے لیے ہونے والے معرکے کے دوران میں تباہ ہو گیا تھا۔ اس سے قبل پوپ کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اربیل شہر سے موصل لایا گیا۔ پوپ کے ہیلی کاپٹر کے ہمراہ عراقی فوج کے پانچ ہیلی کاپٹر تھے۔

حوش البیعہ چرچ کے دورے کے بعد پوپ قصبہ "قرقوش" پہنچے جسے داعش تنظیم نے 2014ء میں تباہ کر ڈالا تھا۔ یہاں اُن مسیحی عراقیوں کی جانب سے پوپ کا بھرپور استقبال کیا گیا جو تین برس کے بعد اپنے قصبوں میں واپس لوٹے تھے۔

پوپ فرانسیس کا آج کا دورہ نہایت اہمیت کا حامل ہے بالخصوص جب کہ نینوی صوبہ اور اس کا صدر مقام موصل عراق میں مسیحیوں کا مرکز شمار کیا جاتا ہے۔ یہاں کے تاریخی چرچوں کو داعش تنظیم کے ہاتھوں بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔

پوپ فرانسیس نے زور دیا کہ دہشت گردی تمام مذاہب کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے عداوت، شدت پسندی اور تشدد کو مذہب سے غداری قرار دیا۔ پوپ نے مزید کہا کہ "ہمیں ان لوگوں کو روکنا چاہیے جو مذہب کی آڑ لے کر اس کا استحصال کرتے ہیں اس لیے کہ دہشت گردی اور تشدد کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں"۔

عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی نے اعلان کیا ہے کہ ہر سال 6 مارچ کو ملک میں رواداری اور باہمی بقاء کا قومی دن منایا جائے گا۔

یہ اعلان عراق میں شیعہ مرجع علامہ علی سیستانی اور پوپ فرانسیس کے درمیان تاریخی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔ دونوں شخصیات کے درمیان ملاقات میں موجودہ زمانے میں انسانیت کو درپیش بڑے چیلنجوں اور ان پر غلبہ پانے کے لیے اخلاقی اقدار کی پاسداری کی اہمیت پر تبادلہ خیال ہوا۔ علامہ سیستانی نے جنگوں، پر تشدد کارروائیوں، اقتصادی محاصرے اور جبری ہجرت کے سبب خطے کے لوگوں بالخصوص فلسطینی قوم کے مصائب پر بات چیت کی۔ انہوں نے باور کرایا کہ عراق میں مسیحی شہریوں کو بھی دیگر شہریوں کی طرح امن و سلامتی اور مکمل آئینی حقوق کے ساتھ رہنے کا حق ہے۔