.

ٹریفک حادثے نے سعودی لڑکی کو عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بنا دیا

'حادثہ نہ ہوتا میں بھی گم نامی کی زندگی بسر کر رہی ہوتی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں کہ بعض اوقات المیے اور حادثے کے پیچھے کوئی بڑی کامیابی چھپی ہوتی ہے۔ سعودی عرب میں ایک لڑکی کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں بھی ایسا ہوا۔ رائعہ العطاس کے ساتھ 13 سال کی عمر میں پیش آنے والا حادثہ اس کے لیے زندگی میں آگے بڑھنے کا ایک شاندار موقع ثابت ہوا جس نے اسے شہرت اور عزت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔

رائعہ العطاس کی عمر 13 سال تھی جب وہ ایک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں ایک ٹانگ سے معذور ہوگئی مگر اس کی اس معذوری نے اسے عالمی چیمپیئن بنا دیا۔ اس نے معذوری کو شکست دیتے ہوئے کھیل کے علاقائی اور عالمی مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔

اس نے کھیل کے میدان برف پر بہت چھوٹی عمر میں 'اسکینگ' شروع کی۔ اس کے علاوہ اس نے ہاکی اور رولربارک کے لیے خواتین کی ایک ٹیم بھی تشکیل دی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا کہ ٹریفک حادثے میں ٹانگ کے زخمی ہونے کے بعد وہ ڈپریشن کا شکار ہوگئی۔ تاہم اس کی ماں کی کوششوں اور ترغیب سے اس نے کھیل کے میدان میں قدم رکھا۔ اور اسکنگ پلیٹ فارم کا انتخاب کیا۔

اس کا کہنا ہے کہ حادثے نے اسے شہرت، عزت اور دولت سب کچھ دیا۔ یہ حادثہ اس کے ساتھ پیش نہ آتا تو وہ بھی گم نامی کی زندگی گزار رہی ہوتی۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے کہا کہ اس نے ہالکی کی ٹریننگ کے لیے کوچ سالم حبشی کی خدمات حاصل کیں اور سلطان سلامہ کی قیادت میں پہلا سرمائی کلب قائم کیا۔

ان کی ٹیم ابوظبی میں زاید ویمن آئس ہاکی چیمپین شپ اور ابو ظبی اور سویڈن میں ایک تربیتی کیمپ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس نے انکشاف کیا کہ وہ فی الحال ہاکی اور بیلے کے لیے خلیجی ممالک میں ہونے والے ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

العطاس نے مزید کہا کہ جدہ ایگلز کی ٹیم 2018 میں اسپورٹس فار آل کی چھتری تلے قائم کی گئی تھی جبکہ ویمنز رولر بال ٹیم صرف ایک سال قبل قائم کی گئی تھی۔ اس میں 32 کھلاڑی شامل ہیں۔ انہیں سپورٹس فار آل فیڈریشن اور ایڈونچر ایسوسی ایشن کی لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔ اس وقت اس کی ایسوسی ایشن سے تعلق رکھنے والی صرف 4 ٹیمیں موجود ہیں جو فی الحال جدہ میں ہیں تاہم جلد ہی وہ ریاض میں بھی ٹیم تشکیل دیں گے۔