.

پوپ فرانسیس سیستانی سے ملاقات پر ایران جھنجھلاہٹ کا شکار

ایرانی اخبار نے نجف کے دورے کو "سازش" قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ فرانسیس کے عراق کے دورے کے حوالے سے علاقائی اور عالمی سطح پر بہت سے ردود عمل سامنے آ رہے ہیں۔ کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد یہ پوپ کا پہلا بیرونی دورہ ہے۔

عراقی عوام کی جانب سے اس دورے کا وسیع پیمانے پر خیر مقدم کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر #لتصمت الأسلحة کے نام سے ٹرینڈ بھی زوروں پر ہے۔

عراقی حکومت واضح طور پر اس دورے کو اپنے لیے ایک بڑی کامیابی شمار کر رہی ہے۔

پوپ فرانسیس کی عراقی شیعہ مرجع علامہ علی سیستانی سے ملاقات اور امن اور مذاہب کے درمیان دوستی سے متعلق بات چیت ،،، نجف کے علمی مکتبہ فکر کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ تاہم اس پیش رفت نے ایرانی نظام کو جھنجھلاہٹ کا شکار بنا دیا۔ اس کا ثبوت ایرانی میڈیا کی جانب سے اس دورے کو نظر انداز کرنا ہے۔

ایران کے مرکزی اخبارات نے نہ صرف یہ کہ دورے کی کوریج نہیں کی بلکہ ان میں سے بعض نے تو دورے پر نکتہ چینی بھی کی ہے۔ ان میں ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے دفتر کے زیر انتظام اخبار "کیھان"، ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام "جوان" اور دیگر اخبارات شامل ہیں۔

ایرانی اخبارات نے علامہ علی سیستانی کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے گذشتہ ماہ عراق کا دورہ کرنے والے ایرانی عدلیہ کے سربراہ ابراہیم رئیسی سے ملاقات نہیں کی۔

بین الاقوامی امور کے لیے علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی کے زیر ادارت اخبار "فرهیختگان" نے پوپ فرانسیس کے حالیہ دورہِ عراق کو "سازش" قرار دیا۔ اخبار نے لکھا ہے کہ "یہ دورہ ان حالیہ کوششوں کا حصہ جن کا مقصد امن پھیلانے کے نام پر اسرائیل کے وجود کو راسخ کرنا ہے"۔ اسی طرح اخبار نے دعوی کیا ہے کہ پوپ کے دورے کا مقصد عراق میں مسیحیت کا پھیلاؤ اور مسیحیوں کے نفوذ میں توسیع ہے۔

کئی مبصرین کے نزدیک پوپ فرانسیس کی علامہ سیستانی سے ملاقات کے نتائج میں اہم ترین یہ ہے کہ شیعیت کی مرکزیت نجف میں واپس آ گئی ہے۔ ایرانی نظام ہمیشہ سے علامہ سیستانی کے نفوذ کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا رہا ہے۔