.

حوثیوں کے ایک غیرقانونی حراستی کیمپ میں آتش زدگی سے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم نے بتایا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی ملیشیا کی طرف سے قائم کردہ ایک غیرقانونی حراستی کیمپ میں آتش زدگی کے نتیجے میں درجنوں تارکین وطن ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں‌کیمپ کے حفاظتی عملے کے افراد بھی شامل ہیں۔

تنظیم برائے بہبود مہاجرین کی طرف سے ٹویٹر پر جاری کردہ متعدد ٹویٹس میں بتایا گیا ہے کہ آتش زدگی سے حراسی کیمپ میں کم سے کم 8 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے جب کہ مجموعی طور پر 170 سے زاید افراد کو فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ان میں سے 90 کی حالت خطرے میں‌بتائی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق حراستی کیمپ میں آتش زدگی کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

ٹویٹس میں کہا گیا ہے کہ حراستی کیمپ میں آتش زدگی کے اس واقعے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آتش زدگی یمن میں جاری بحران کی مختلف شکلوں میں سے ایک خوفناک شکل جس کا یمن میں موجود غیرملکی تارکین وطن کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ادھر 'یمن فیوچر' پلیٹ فارم کی طرف سے جاری ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ حراستی کیمپ میں کم سے کم 30 افریقی تارکین وطن جھلس کرہلاک ہوئے ہیں۔ آتش زدگی سے زخمی ہونے والوں کی تعداد 170 ہےجن میں سے 90 کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔

ادھر حوثی ملیشیا کی طرف سے اس حادثے کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ آتش زدگی مقامی وقت کے مطابق اتوار کو اڑھائی بجے لگی۔ یہ آتش زدگی غیرقانونی تارکین وطن کو رکھنے کے لیے قائم کردہ ایک کیمپ میں ہوئی جس کے نتیجے میں ایمی گریشن کے حکام اور حفاظتی عملے سمیت متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔