.

سعودی آرٹسٹ نے کیک کو دلفریب فن پاروں میں کیسے تبدیل کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عام طور پر نقش و نگار کا پیشہ لکڑی یا چٹانوں تک محدود ہے لیکن ایک نوجوان سعودی خاتون آرٹسٹ نے اپنی فنکارانہ توانائی کے اظہار کے لیے کیک کو بھی آرٹ کے منفرد فن پاروں میں تبدیل کر کے دیکھنے والوں کو حیران کر دیا۔ اس نے کیک کو فن پاروں کی شکل میں تیار کرنے کے لیے مختلف جسامت اور شکلوں کے مولڈ تیار کیے جن میں کیک اور پیسٹریز کو اس انداز میں تیار کیا جسے وہ منفرد فن پاروں میں بدل گئے۔ یہ سب کچھ اور اس نے اپنے اندرون اور بیرون ملک سفر سے سیکھا تھا۔ اس نے کیک کو فن پاروں میں تبدیل کرنے کے بعد ایک ویب سائٹ بھی بنائی جس پر اس نے اپنے تیار کردہ منفرد فن پاروں کی تصاویر اور کیکوں کے نمونے پیش کرکے ناظرین تک اپنے آرٹ کو پہنچایا۔

آرٹسٹ زھرا آل مغلق کا تعلق سعودی عرب کے مشرقی سعودی شہر قطیف کے نواحی علاقے صفویٰ سے تعلق رکھتی ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے مجسمہ سازی اور کیک ڈرائنگ میں اپنی صلاحیتوں کے حصول کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے زھرا نے کہا کہ "آرٹ کی طرف اس کا بچپن سے رحجان تھا۔ بہت چھوٹی عمر میں اس نے آرٹ کے مختلف شعبوں میں سیکھنا شروع کر دیا تھا۔ ڈرائنگ اور آرٹ ورک، فوٹو گرافی، سجاوٹ میرے پسندیدہ مشاغل تھے۔"

"میری خواہش تھی کہ میں اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ آرٹ کو بھی جاری رکھوں۔ میں نے اندرونی ڈیزائن میں تعلیم حاصل کی لیکن میری قسمت نہیں تھی۔ قسمت نے میرا ساتھ نہیں دیا جس کی وجہ سے میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں آگئی مگر میں نے آرٹ کے مشاغل جاری رکھے۔ میرے اندرجذبہ زندہ رہا۔ مجھے یقین تھا کہ میرے پاس ایک فنکارانہ توانائی ہے جس کی کچھ فنکارانہ فیلڈ میں مجھے عکاسی کرنی ہوگی۔"

آل مغلق نے اپنے گھر میں اپنے ہی باورچی خانے میں اپنا کام انجام دینا جاری رکھا۔ وہ اپنے کچن میں مختلف شکلوں اور نمونوں کے کیک تیار کرتی۔ ایک کیک کی تیاری میں وقت اس کے حجم کے مطابق ہی صرف ہوتا ہے۔ اگر سادہ کیک تیار کرنا ہو تو اس میں وقت کم لگتا ہے مگر پیچیدہ کیک اور پیسٹری کی تیاری میں زیادہ وقت صرف ہوتا ہے۔ پیچیدہ کیک کی تیاری میں چار دن بھی لگ سکتے ہیں۔ ان میں پھول تیار کرنے میں وقت لگتا ہے۔ بعض کیک تو ایک ہفتہ کھا جاتے ہیں۔ ہر کیک کی اپنی نوعیت ہوتی ہے اورکیک مختلف مواقع کے مطابق تیار کیے جاتے ہیں۔ مثلا شادی بیاہ کے موقعے پر تیار کردہ کیک سالگرہ کے کیک سے مختلف ہوتا ہے اور امتحان میں کامیابی کی خوشی کا کیک ان دونوں سے منفرد ہوگا۔

زہرہ آل مغلق کے کیک کو فن پاروں میں تبدیل کرنے کے آرٹ نے پچھلے دس سال میں کئی مدارج طے کیے ہیں۔ کیک آرٹ کے لیے اس نے سب سے پہلے یوٹیوب پر اس حوالے سے موجود معلوماتی ویڈیوز سے مدد حاصل کی۔ کچھ عرصے کے بعد اس نے الخبر کے علاقے میں اس کی باقاعدہ تربیت حاصل کی اور ٹریننگ لی۔ اس فن کو مزید جلا بخشنے کے لیے اس نے ابوظبی، دبئی، کویت ،آسٹریلی، برطانیہ اور امریکا جیسے ملکوں کا سفر کیا۔ اس نے بتایا کہ اس میدان میں سے پہلی مشکل کورسز کے مواد کی کمی تھی۔ اس کے بعد اس آرٹ کی تیاری میں استعمال ہونے والے آلات کا فقدان تھا۔ تاہم اب حالات بدل چکے ہیں۔ خطے میں کیک کے مختلف ماڈل سامنے آنے کے بعد ان کی سپلائی بھی بڑھ چکی ہے اور یہ کاروبار تیزی سے پھل پھول رہا ہے۔

اس نے بتایا کہ کیک اور پیسٹری کو سجانے کے لیے اس کے پاس کوئی پلیٹ فارم نہیں تھا۔ عربی زبان میں تو ایسی کوئی ویب سائٹ بھی نہیں تھی۔ چنانچہ اس نے ایک ویب سائٹ بھی بنائی جس میں اس نے اپنے تیار کردہ فن پاروں کو پیش کرنا شروع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس ویب سائٹ کے ذریعے لوگوں کو ٹریننگ بھی فراہم کر رہی ہیں اور اب تک 2 ہزار سے زاید افراد کو ٹریننگ دی گئی ہے۔