آئینی اصلاحات نے سعودی خواتین کو معاشرے کا فعال حصہ بنا دیا: شہزادی ریما بنت بندر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں خادم الحرمین الشریفین کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر بن سلطان نے کہا ہے کہ مملکت کی دانش مند قیادت کی زیرنگرانی ہونے والی آئینی اور قانونی اصلاحات کے نتیجے میں خواتین کو ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور انہیں معاشرے کا فعال طبقہ بنانے کا موقع ملا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مملکت میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ آزاد اور با اختیار بنانا ویژن 2030 کے اہداف کا حصہ ہے۔ اس ویژن کی روشنی میں ہونے والی اصلاحات نے خواتین کو آگے بڑھنے کا موقع دیا اور ریاستی اداروں میں خواتین کے کردار کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوئی ہیں۔ اس کے نتیجے میں خواتین اب ہمارے معاشرے کا فعال طبقہ بن چکی ہیں۔

خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر ایک بیان میں امریکا میں سعودی عرب کی سفیر نے کہا کہ سعودی عرب خواتین کی ترقی، بہبود اور ان کی مدد کے اصول پرکاربند ہے۔ مملکت میں خواتین کو معاشری مساوات فراہم کرنے کے لیے بھرپور اصلاحات کی گئی ہیں جن کا مقصد ملک کی تعمیرو ترقی میں خواتین کو حصہ ڈالنے کے قابل بنانا ہے اور ان کی خدمات سے استفادہ کرنا ہے۔

شہزادی ریما بنت بندر نے کہا کہ کرونا کی وبا نے مملکت میں خواتین کے طبقے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ کرونا وبا کی وجہ سے خواتین اقتصادی اور سماجی مشکلات سے دوچار ہوئیں۔ وبا نے مردوں کی نسبت خواتین کو زیادہ متاثر کیا۔

شہزادی ریما نے اپنے مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب کی پہلی خاتون سفیر ہیں جنہیں امریکا میں سفیر مقرر کیا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی عرب میں خواتین کو با اختیار بنانے کے کے لیے وسیع تراصلاحات کی جا رہی ہیں۔

اگست 2016 کو انہیں کھیلوں کی جنرل اتھارٹی کی سربراہ مقررکیا گیا اور 17 جولائی کو 2020 وہ بین الاقوامی اولمپک کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں