.

خامنہ ای کے مقرب ذمے دار کے بیان نے ایک بار پھر تنازع پیدا کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کی ایک مقرب شخصیت کے بیان کے سبب چند روز کے دوران میں وزارت خارجہ کو دوسری مرتبہ بوکھلاہٹ کا شکار ہونا پڑا ہے۔

ایران میں 'مجلس تشخیص مصلحت نظام' کے سکریٹری جنرل محسن رضائی نے چند روز قبل برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو جو انٹرویو دیا تھا اس کے اثرات ابھی تک جاری ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت میں ایرانی وزارت خارجہ نے گذشتہ روز رضائی کے نئے بیان کے حوالے سے اپنا موقف واضح کیا ہے۔ رضائی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ان کا ملک اب اس وقت تک خطے کی ریاستوں کو ایک ایرانی ریال بھی ادا نہیں کرے گا جب تک بعد ازاں اس کی واپسی کی یقین دہانی نہ ہو جائے !

ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ محسن رضائی کی بات "ذاتی نقطہ نظر ہے ،،، یہ تہران کے نقطہ نظر کی ترجمانی نہیں ہے ... ایران نے داعش کے انسداد کی خاطر اخوت کی بنیاد پر بشار حکومت اور عراق کی مدد کرنے میں تیزی دکھائی"۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی طویل عرصے تک قیادت کرنے والے محسن رضائی اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ "یہ بات غیر معقول ہے کہ ایران شام اور عراق کو سیکورٹی مہیا کرنے کے لیے سپورٹ پیش کرے پھر یہ انکشاف ہو کہ اس امن کو یقینی بنانے کے نتیجے میں حاصل اقتصادی فوائد سے دیگر ممالک مستفید ہو رہے ہیں"۔ ان کا اشارہ روس کی جانب تھا۔ رضائی نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ دونوں ملکوں میں جنگ پر خرچ ہونے والی ایرانی رقوم واپس کی جائیں۔

جمعرات کے روز سے ایرانی سیاسی منظر نامے میں محسن رضائی اور وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کے درمیان امریکا اور مغرب کے ساتھ مذاکرات کے معاملے پر تنازع دکھائی دے رہا ہے۔ اس کی وجہ فنانشل ٹائمز کو دیا گیا وہ انٹرویو تھا جس میں رضائی کا کہنا تھا کہ "اگر متعلقہ ممالک اس بات کا واضح اشارہ دیں کہ تہران پر سے پابندیاں ایک برس کے اندر اٹھا لی جائیں گی تو ایران جوہری حوالے سے بات چیت دوبارہ شروع کرنے پر تیار ہے"۔ اس بیان نے ایرانی وزارت خارجہ کو جوابا اپنا موقف پیش کرنے پر مجبور کر دیا۔