.

سعودی عرب کی تاریخ میں نمایاں خدمات انجام دینے والی 9 باہمت خواتین کون تھیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر سعودی عرب کے 'دارۃ الملک عبدالعزیز' کی طرف سے مملکت کی تعمیرو ترقی اور اس کے دفاع کے میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی 9 خواتین کی سوانح پیش کی ہیں۔

سعودی عرب کے ثقافتی ادارے کی طرف سے ایک مختصر دستاویزی فلم بھی تیار کی گئی ہے جس میں مملکت میں نمایاں خدمات انجام دینے والی خواتین کی قربانیوں کا احوال بیان کیا ہے۔ دستاویزی فلم میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے تعریفی کلمات بھی شامل ہیں جن میں انہوں‌ نے مملکت کی ترقی اور وطن عزیز کی بہبود کے لیے کار ہائے نمانہ خدمات انجام دینے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

سعودی عرب کی تاریخ میں روشن نمونہ عمل پیش کرنے والی خواتین میں سر فہرست 'سارہ بنت احمد السدیری' ہیں۔ سارہ بنت احمد السدیری مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کی والدہ گرامی ہیں۔ مرحومہ نے اپنے بیٹے کی سرزمین حجاز کو متحد کرنے کی کاوشوں میں ان کی ہرممکن مدد اور سرپرستی کی۔

دوسری خاتون جنہیں سعودی عرب کی تاریخ میں اہم ترین مقام حاصل ہے وہ شاہ عبدالعزیز آل سعود کی ہمشیرہ نورہ بنت عبدالرحمان آل سعود ہیں۔ شہزادی نورہ اور ان کی اولاد نے سعودی عرب کے قیام اور اس کے بعد اس کی ترقی اور خوش حالی میں گراں قدرخدمات انجام دیں۔

سعودی عرب کی ترقی میں‌پیش پیش رہنے والی خواتین میں شاہ عبدالعزیز کی چچی جوہرہ بنت فیصل بن ترکی آل سعود ہیں۔

سعودی عرب میں تاریخ رقم کرنےوالی خواتین میں ایک نام غالیہ البقمی کا ہے۔ غالیہ البقمی وہ بہادر خاتون تھیں جنہوں‌نے محمد علی پاشا کے سعودی عرب پرحملے کےخلاف مردانہ وار مقابلہ کیا۔ سعودی عرب کی تاریخ میں نمایاں کردار ادا کرنے والی خواتین میں ھیا بنت صالح الشاعر کو بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ ایک مصنفہ تھیں اور انہوں نے الخطیبہ ھیا' کے نما سے ایک کتاب بھی تالیف کی۔ حائل کے علاقے سے تعلق رکھنے والی خواتین میں ان کا شمار قرآن پاک کی تدریس میں صف اول کی خواتین میں ہوتا تھا۔ موضی البسام بھی ان بہادر خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے سعودی ریاست کے قیام کے دوران الصریف اور البکریہ کے معرکوں میں مجاھدین کو تحفظ فراہم کیا تھا۔

جوہربن عبداللہ المعمر نے سعودی عرب ریاست کے بانیوں میں شامل امام محم بن سعود کی بھرپور معاونت کی تھی۔ جب العیینہ کے گورنر نے امام محمد بن سعود کے ساتھ غداری کی تو اس وقت جوہرہ بنت عبداللہ نے ان کی مدد کی تھی۔ سعودی عرب کی تاریخ میں خواتین کے نمایاں کردار اور اصلاحات میں نورہ بنت سلیمان الرھیط کی تعلیمی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔