.

لبنان: ابترمعاشی حالات کے خلاف عوامی احتجاج ،مظاہرین نے شاہراہیں بند کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں غربت اور ابتر معاشی حالات کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے اور مظاہرین نے منگل کے روز رکاوٹیں کھڑی کرکے بیشتر بین الاضلاعی شاہراہیں بند کردی ہیں۔

لبنان کو اس وقت بدترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے،جس کی وجہ سے بے روزگاری روزافزوں ہے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔حالیہ دنوں میں لبنانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں مزید گرگئی ہے۔

اس معاشی ابتری کو ملک میں سیاسی عدم استحکام اور کوئی فعال حکومت نہ ہونے کی وجہ سے مزید مہمیز ملی ہے۔لبنان میں اس وقت وزیراعظم حسان دیاب کی قیادت میں نگران کابینہ نظم ونسق چلا رہی ہے۔وہ اور ان کے وزراء گذشتہ سال اگست میں بیروت کی بندرگاہ پر تباہ کن دھماکے کے بعد مستعفی ہوگئے تھے لیکن صدر میشال عون نے نئی حکومت کی تشکیل تک انھیں امورحکومت جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی مگرتب سے ابھی نئی کابینہ تشکیل نہیں پائی ہے۔

نگران حکومت کو کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے مزید اقتصادی مسائل کا سامنا ہے اور اس مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے لاک ڈاؤن اور دیگر پابندیوں نے عوام کے معاشی مسائل کو دوچند کردیا ہے۔عوام حکومت سے معاشی حالات بہتر بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں اور وہ حکمران اشرافیہ کی بدعنوانیوں کے خلاف ایک مرتبہ پھر سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

لبنان کے دارالحکومت بیروت اور دوسرے چھوٹے بڑے شہروں میں کم وبیش روزانہ ہی احتجاجی مظاہرے کیے جارہے ہیں۔سوموار کو پورا دن ہی بیروت میں مظاہرین نے شاہراہیں بند رکھی تھیں اور ٹریفک کو معطل کردیا تھا۔

لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق مظاہرین نے آج منگل کو شمالی شہر طرابلس اور مشرقی علاقے وادی بقاع میں بعض بڑی شاہراہوں کو رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کردیا تھا۔بیروت کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہوں کو بھی انھوں نے مختصروقت کے لیے بند کردیا تھا لیکن پھر ٹریفک کے لیے کھول دیا تھا۔

بعض مظاہرین ایک مرتبہ پھر 2019ء ایسی عوامی احتجاجی تحریک برپا کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس عوامی تحریک کے دوران میں مظاہرین نے لبنان کی تمام حکمراں سیاسی اشرافیہ کو اقتدار سے نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا تھا اور اس کو نااہل اور بدعنوان قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ لبنان کی 50 فی صد سے زیادہ آبادی غربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی بسر کررہی ہے جبکہ خوراک اور دوسری اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے۔لبنانی پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں اپنی 80 فی صد قدر کھو چکا ہے۔

لبنان کے زرمبادلہ کے ذخائر سکڑتے جارہے ہیں۔اس کے پیش نظر لبنانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ وہ بہت جلد ایندھن اور درآمدہ اشیاء پر زرتلافی ختم کردیں گے۔

لبنانی صدر میشال عون نے سڑکوں کی بندش کو تخریب کاری قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے حکام پر زوردیا ہے کہ وہ خوراک کی قیمتوں میں میں ناجائز اضافے سے گریز کریں۔