.

مجسمہ سازی میں عالمی شہرت حاصل کرنے والے سعودی آرٹسٹ سے ملیے

علی الجاسر کی گھوڑوں کی مجسمہ سازی اور عربی خطاطی دنیا بھر میں پذیرائی ملی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک آرٹسٹ نے اپنی فن کارانہ مہارت سے اصیل عربی گھوڑوں اور عربی خطاطی کے نمونوں کی تیاری میں بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے۔

فائن آرٹ کے شعبے میں گریجوایشن کرنے والے آرٹسٹ علی الجاسر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس نے عالمی سطح‌پر گھوڑوں کی مجسمہ سازی اور عرب خطاطی کے فن پارے تیار کرکے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔ اس کے فن پارے صرف مجسمہ سازی اور نقش ونگاری تک محدود نہیں بلکہ وہ لکڑی پر بھی حیرت انگیز فن پارے حاصل کرنے میں مہارت رکھتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے علی الجاسر نے کہا کہ مجسمہ سازی کا شوق اسے بچپن سے ہے۔ وقت کے ساتھ اس کا یہ شوق مزید پروان چڑھتا گیا اور اس نے پیشہ وارانہ تعلیم کے ایک اسکول میں بڑھئی کے کام سے اپنی پیشہ وارانہ مہارت کا آغاز کیا۔ اس کے فن پارے اندرون اور بیرون ملک مشہور ہوئے۔ بعد ازاں اس نے سعودی عرب کے علاوہ تونس، الجزائر، کویت، متحدہ عرب امارات اور سلطنت عمان میں ہونے والی نمائشوں میں حصہ لیا۔

ایک سوال کے جواب میں علی الجاسر نے کہا کہ مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ سنہ 2016ء کو امریکا میں لکڑی کے کام پر ہونے والے نقش وگار کے حوالے سے ایک بین الاقوامی نمائش میں مجھے سعودی عرب کی نمائندگی کا موقع ملا۔ اس کے بعد 2019ء کو آسٹریا میں بھی اس نے ایک نمائش میں حصہ لیا۔ کویت میں 2018ء اور 2019ء کے دوران ہونے والی ایکسپونمائش میں شریک دیگر 965 تخلیق کاروں وہ بھی شامل تھا.

ایک سوال کے جواب میں الجاسر کا کہنا تھا کہ مجسمہ سازی میں اس کی شرکت کا سب سے اہم موقع چین میں ہونے والی ایک نمائش میں شرکت تھی۔ اس نمائش میں نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری عرب دنیا سے میں نے نمائندگی کی جب کہ اس نمائش میں پوری دنیا سے 15 مشاہیر آرٹسٹ شریک ہوئے۔