.

نوادرات کی تلاش میں برسوں سے محو سفر سعودی 'ابن بطوطہ' سے ملیے

علی الشریف نے 30 سالہ سفر میں ہزاروں قیمتی نوادرات کا میوزیم قائم کررکھا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والا ایک شہری گذشتہ 30 سال سے دنیا کے مختلف ملکوں میں محو سفر ہے۔ اس کے اس سفر کا مقصد دنیا بھر سے نوادرات اور آثار قدیمہ جمع کرنا ہے۔

علی خلف الشریف نے سعودی عرب کے مغربی شہر طائف میں 6 ہزار مربع میٹر پر ایک بڑا میوزیم بنا رکھا ہے جس میں ہزاروں کی تعداد میں بیش قیمت اور نایاب نوادرات کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے اس عجائب گھر کا شمار سعودی عرب کے بڑے عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے علی خلف الشریف نے کہا کہ میں گذشتہ 30 سال سے نہ صرف سعودی عرب بلکہ خلیجی ممالک اور دوسرے ملکوں کے سفر پر ہوں۔ میں مختلف ممالک میں نوادرات کی نمائش اور نیلامیوں میں شرکت کرتا ہوں۔ میں نے سنہ 1420ھ کو اپنے گھر میں ایک میوزم قائم کیا۔

ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ اس نے میوزیم کے لیے ایک چھوٹا بازار بھی بنا رکھا ہے جس میں نوادرات کی دکانیں ہیں۔ اس کی اس کاوش کا مقصد گذرے زمانے کے حالات کو نوادرات کی زبان میں آنے والی نسلوں تک پہنچانا اور یہ بتانا ہے کہ گذرے زمانے میں لوگ کیسی زندگی بسر کرتے تھے۔

علی الشریف نے کہا کہ اس کے میوزیم میں پرانے دور کے چائےتیار کرنے کے برتن، باورچی خانے میں استعمال ہونے والے برتن اور آلات، تلواریں، بندوقیں، خنجر،تیر، زراعت کے لیے استعمال ہونے والے آلات، کپڑے، زیورات، پتھروں پر نقش نگاری کے فن پارے جو دوسری صدی ھجری کے دور سے تعلق رکھتے ہیں محفوظ ہیں۔