.

الباحہ کی پہاڑیوں پر جنگلی 'گل یاسمین' نے ماحول کو معطر بنا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے مغربی علاقے دینوب ۔ الباحہ کی پہاڑیوں پر چڑھتے ہوئےسیاحوں کو نایاب جنگلی گل یاسمین اپنی عطر بیز آغوش میں لے لیتا ہے۔

الباحہ کی پہاڑی ڈھلوانوں اور غاروں کے اطراف میں چار سو جنگلی گل یاسمین کی خوشبو وہاں سے گذرنے والوں کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔

مقامی سطح پر اس پھول کو'الظیان' کہا جاتا ہے۔ اگرچہ پوری دنیا میں اس کی سیکڑوں اقسام ہیں مگر الباحہ کی پہاڑی چٹانوں پر یہ پھول دار پودا ایک نایاب پھول سمجھا جاتا ہے۔ یہ بلندی کی طرف چڑھتا ہے اور اس کا پھول گھنا اور بڑا ہوتا ہے جو اپنی مخصوص اور دل کو چھو لینے والی مہک کی وجہ سے مشہور ہے۔ گل یاسمین یا 'الظیان'کا پودا 15-20 میٹر تک اونچا ہوتا ہے۔اس کا تنا کافی مضبوط ہوتا ہے اور سبز پتوں والے اس پودے پر سفید پھول لگتے ہیں۔ سبز درختوں کے بیچ سفید پھول ستاروں کی طرح چمکتے ہیں۔

الباحہ کی پہاڑیوں کے قدرتی مناظر کی فوٹو گرافی کرنے والے سعودی فوٹوگرافری ناصر الشدوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الظیان کا جمالیاتی حسن بے مثل ہے۔ اس کا پودا ڈھلوانوں میں ہوتا ہے اور اس کی لمبی عمر ہوتی ہے۔ اس کے پھول سفید اور پتے گہرے سبز ہوتے ہیں۔ مقامی لوگ اسے 'العقیران' اور الظیان بھی کہتے ہیں۔ یہ جنگی یاسمین کی ایک شکل ہے۔

اس پودے پر فروری کے آخر اور مارچ کے اوائل میں پھول کلھتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب شہد کی مکھیاں شہید کے لیے پھولوں کا رخ کرتی ہیں۔ قدیم لوگ اس کے پتوں کو علاج کے استعمال کرتے تھے۔ پتوں کو ریمیٹزم جیسے درد کی جگہوں پرپٹی کی شکل میں باندھا جاتا تھا۔