.

ایران: پاسداران انقلاب کے جنرل روحانی کی جگہ لینے کے لیے صف آراء

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے اہم ارکان نے آئندہ موسم گرما میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے تیاری شروع کر دی ہے۔ یہ ارکان موجودہ صدر حسن روحانی کی جگہ لینے کے لیے صف آراء ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ جون میں موجودہ صدر کی مدت پوری ہونے کے بعد انتہا پسند اور غیر لچک دار موقف کے حامل عناصر اقتدار میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

گذشتہ برس ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے نتیجے میں سخت گیر دھڑا پارلیمنٹ میں اوپر آ گیا تھا۔ انتخابات میں عوامی شرکت کا تناسب ایران کی تاریخ میں ادنی ترین سطح پر رہا۔ اس کے بعد سے ملک میں شدت پسند ٹولہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے ہر کوشش اور منصوبے کو بنیاد بنا کر روحانی کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے۔

سعید محمد

آئندہ جون میں ہونے والے انتخابات میں متوقع نمایاں ترین امیدواروں میں سعید محمد بھی ہے۔ یہ پاسداران انقلاب کے کم عمر ترین جنرلوں میں سے ہے۔ واضح رہے کہ چند روز قبل اس نوجوان جنرل کا خاتم الانبیاء اتھارٹی میں چوٹی کے منصب پر پہنچنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے لیے کتنا مقرب اور قابل اعتماد ہے۔ سعید محمد سول انجینئرنگ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری کا حامل ہے۔ اگرچہ وہ پاسداران کے ساتھ کام کے عرصے کے دوران میں لڑائی کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتا تاہم اس نے اپنی تعلیمی قابلیت کی بنا پر پاسداران میں ترقی کی منازل طے کیں۔

حسين دهقان

آئندہ صدارتی انتخابات میں پاسداران انقلاب کے متوقع امیدواروں میں حسین دہقان کا نام بھی نمایاں طور پر سامنے آ رہا ہے۔ وہ ایرانی فضائیہ کے سابق افسر رہ چکا ہے۔ اسی طرح روحانی کی پہلی مدت صدارت میں وزیر دفاع کے منصب پر بھی فائز رہ چکا ہے۔ دہقان اس وقت خامنہ ای کے عسکری مشیر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ گذشتہ ہفتے ایک بیان میں دہقان نے باور کرایا تھا کہ "ملک کا قانون انتخابات میں عسکری اہل کاروں کی نامزدگی سے نہیں روکتا"۔

ادھر بریگیڈیئر جنرل اسماعیل الکوسری نے بی بی سی (فارسی سروس) سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ "لوگوں کو پاسداران انقلاب کے خیال سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں"۔ اس کا اشارہ اپنی قیادت کی ممکنہ نامزدگی کی جانب تھا۔ الکوسری ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ میجر جنرل حسین سلامی کا مشیر ہے۔

اسی طرح صدارتی انتخابات میں پاسداران کے ممکنہ امیدواروں میں پرویز فتاح کا نام بھی شامل ہے۔ وہ پاسداران کا رکن اور خامنہ ای فاؤنڈیشن کا موجودہ سربراہ بھی ہے۔ امریکی وزارت خزانہ نے کچھ عرصہ قبل اس فاؤنڈیشن پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

واضح رہے کہ کرسی صدارت پر پاسداران انقلاب کا کنٹرول بلا شبہ جوہری معاہدے کے حوالے سے مذاکرات کے لیے امریکی انتظامیہ کے مشن اور کوششوں کو مشکل بنا دے گا۔