.

رواں ہجری سال کے دوران سعودی عدالتوں کے17 ارب ریال مالیت کے فیصلے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ انصاف نے العربیہ نیٹ کو بتایا ہے کہ رواں ہجری سال کے دوران مملکت کی عدالتوں سے جاری کردہ فیصلوں کی تعداد 529،989 جن میں کل رقم 71،132 ارب ریال کی ریکوری کے احکامات دیے گئے۔

اس سلسلے میں ، وزارت نے تصدیق کی کہ اس نے حال ہی میں متعدد اقدامات اٹھا کر ڈیجیٹل ترقی کو متحرک کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ ان میں سب سے اہم یہ کہ الیکٹرانک پورٹل 'ناجز' کا اجراء ہے۔ اس پورٹل کے ذریعے شہریوں کو جلد از جلد اور سستے انصاف کی فراہمی، فیصلوں پر عمل درآمد ، دستاویزات کے حصول ، مصالحت، تربیت اور وکالت سمیت 120 مختلف سروسز فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان خدمات میں آن لائن شادی اور اس کے متعلق تمام امور کو محفوظ طریقے سے انجام دینے کی سروس بھی شامل ہے۔

وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ پورٹل کے ذریعے آن لائن قانونی چارہ جوئی کی سروس کو فعال کردیا ہے۔ اس سروس سے ریقین ناجز پورٹل کا استعمال کرتے ہوئے اپنے نمائندہ وکلا کو آن لائن قانونی چارہ جوئی کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ اسی طرح انھیں محکمہ کی درخواستوں پر عدالت کا جائزہ لینے کی ضرورت کے بغیر جواب دینے کی بھی اجازت دیتا ہے۔ ریموٹ قانونی چارہ جوئی ٹریک ، الیکٹرانک رئیل اسٹیٹ، جائیداد کی ملکیت ، خواہ وہ زمین ہو یا عمارت، فروخت کندہ اور خریدار کو ناجز پورٹل اور نوٹری کے ذریعہ فروخت یا عطیہ کا اختیار دیتا ہے۔

وزارت انصاف کا کہنا ہے کہ شہریوں کو آن لائن عدالتی سہولیات کی فراہمی مملکت میں وسیع تر اصلاحالات کے پروگرام'وژن2030' کا حصہ ہے۔

حال ہی میں سعودی عرب کے وزیر انصاف ڈاکٹر ولید الصمعانی نے مملکت میں کیسز کو ورچوئل طریقےسے نمٹانے کے لیے ورچوئل عدالتوں کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ متنازع مسائل اور کیسز کے حل کے لیے قانون کے مطابق فیصلے کرنے کے لیے آزاد ہوں گی۔ان کا کہنا ہے کہ عدلیہ کا اصل کام متنازع حقائق و واقعات اور کیسز کے حل کے لیے قانون کا نفاذ کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان قانون سازی کے اجراء سے ماہرین ، وکلاء اور دیگر افراد کے درمیان قانون پر عمل درآمد اور عدلیہ پراعتماد کو مزید بڑھایا جائے گا۔ مملکت میں ورچوئل عدالتوں کے قیام سے عدالتی فیصلوں کے بارے میں زیادہ جان کاری کے حصول اور افواہوں پر قابو پانے میں مدد ملےگی۔

ڈاکٹر الصمعانی نے نجی نوعیت کے کیسز جن میں بچوں کی دیکھ بحال،کفالت کو تمام کیسز پر مقدم رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ خانگی کیسز میں نکاح کے معاہدے کے آغاز سے لے کر اس کے اختتام تک عورت کی منشا کو ترجیح دی جائے گی۔ عدالتیں من پسند شادی کے کیسز کو بھی قانون کے مطابق حل کریں گی۔ زوجین میں ایک دوسرے کے حقوق و فرائض کی خلاف ورزی جیسے معاملات کو بھی نمٹایا جائے گا۔ متاثرہ فریق کے لیے معاوضے اور خلاف ورزی پر جرمانہ جیسی سزائیں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ عام طور پر اس طرح کہ معاملات طلاق کے کیسز میں ڈیل کیے جائیں گے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ تعزیراتی نظام کسی مجرمانہ فعل کی اجازت نہیں دے گا۔ کسی مجرم کو قانون اور ضابطے قانون کے تحت مقرر کردہ سزا دی جائے گی۔ عدلیہ صرف وہی سزائیں دے سکے گی جو قانون تعزیرات کے تحت باقاعدہ ریاستی نظام کی طرف سے منظور کی گئی ہیں۔