.

سعودی عرب میں خلیفہ ہارون الرشید کے دور کا 'دینار' دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حائل یونیورسٹی کے کھنڈرات کی کھدائیوں اور آثار قدیمہ کے ماہرین نے حائل کے تاریخی مشرقی شہر فید میں کھدائیوں کے دوران عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور کا سونے کا 'دینار' دریافت کیا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق فید کے مقام پر کھدائیوں کے دوران ملنے والےسونے کے دینار کے سکے پر 180ھ کی تاریخ درج ہے اور اس کا وزن چار گرام ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ فید کے مقام پر دریافت ہونے والے کھنڈرات میں کھدائی میں مصروف ہیں۔
ماہرین آثار قدیمہ فید کے مقام پر دریافت ہونے والے کھنڈرات میں کھدائی میں مصروف ہیں۔

حائل یونیورسٹی میں آرٹ اور لٹریچر کالج کے ڈین ڈاکٹر محمد الشہری نے بتایا کہ کھدائیوں کے دوران فید شہر میں التنانیر کے مقام سے 180ھ کا دینا کار سکہ ملا ہے۔ سکے پرایک طرف کوفی عربی رسم الخط میں "لا إله إلا الله وحده لا شريك له" کے الفاظ درج ہیں جب کہ دوسری طرف قرآن پاک کی آیت "هو الذي أرسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله" کے الفاظ کندہ کیے گئے ہیں۔

ڈاکٹر الشہری نے بتایا کہ فید میں ہونے والی یہ کھدائیاں 8 ویں سیزن میں جاری ہیں۔ ان کھدائیوں میں شہر کی بیرونی دیوار کے اطراف میں موجود کھنڈرات کی کھدائی کی جارہی ہے۔ اس مقام کے بارے میں لوگوں کا خیال ہے کہ یہ کسی زمانے میں بازار ہوا کرتا تھا اور یہاں سے پانی فراہم کیا جاتا۔ حجاج کرام اور معتمرین فید شہر سے اپنی ضرورت کی اشیا خرید کرتے تھے۔ یہ مقام زبیدہ روڈ پر واقع ہے جو خلافت عباسیہ کے دور میں بغداد اور حجاز مقدس کو ملانے کا راستہ تھا۔

آثار قدیمہ کے ماہرین  فید کے کھنڈرات سے متعلق معلومات درج کر رہے ہیں۔
آثار قدیمہ کے ماہرین فید کے کھنڈرات سے متعلق معلومات درج کر رہے ہیں۔

آثار قدیمہ شعبے کے سربراہ عبداللہ عمران کا کہنا ہے کہ سکے پر ایک طرف محمد رسول اللہ بھی لکھا گیا ہے۔ ہرسطر کے نیچے 'جعفر' لکھا ہوا ہے۔ اس سے مراد ہارون الرشید کے وزیر جعفر بن یحییٰ البرمکی ہوسکتے ہیں۔ بیرونی حصے میں بسم اللہ شریف اور سکے کو جاری کرنے کا سال 180 ھ درج ہے۔
ڈاکٹر محمد الحاج کا کہنا ہے کہ کھدائیوں سے ملنے والا دینار خلافت عباسی کے اوئل دور کا ہے۔ خاص طور پر اس کا عرصہ 170ھ سے193ھ تک خلیفہ رہنے والے ہارون الرشید کے دور سے ہے۔ ہارون الرشید عباسی خلافت کےاہم خلفا میں شمار کیے جاتے ہیں۔