.

سعودی عرب کا 10 اعشاریہ 42 فی صد رقبہ قدرتی مقامات اور جنگی حیات کے لیے مختص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں معاشرتی اور حیاتیاتی سرویز کے مطابق تازہ ترین مطالعات سے پتا چلا ہے کہ بنی نوع انسان کے فائدے کے پیش نظر مملکت کا 10 اعشاریہ 42 فی صد رقبہ قدرتی پناہ گاہوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے مختص کیا گیا ہے۔

"سعودی عرب میں وائلڈ لائف کنزرویشن اور پائیدار دیہی ترقی کےقومی نظام" کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک مملکت میں 75 قدرتی مقامات میں سے 15 کو عملی طور پرقدرتی پناہ گاہیں قرار دیا گیا ہے۔ دیگر مجوزہ 62 مقامات میں 13 سمندری اور ساحلی علاقوں میں قائم کی جائیں گی۔ ان میں سے وائلڈ لائف کنزرویشن مرکز 35 مقامات کا انتظام وانصرام سنھبالے گا۔ ان میں سے 15 موجودہ اور 20 آنے والے وقت میں شامل کی جائیں گی۔ 40 مقامات کو وزارت زراعت کے ذریعے چلایا جائے گا۔ ان میں الریاض، عسیر، طایف اور دوسرے شہروں میں قائم کی جائیں‌گی۔ کچھ مقامات دیہی امور، الجبیل اور الینبع میں شاہی اتھارٹی کے زیرانتظام چلائی جائیں گی۔

قدرتی پناہ گاہوں کی تعداد 15 ہے جن میں سے 12 خشکی اور 3 سمندر میں ہیں

اب تک تیار کی جانے والی قدرتی پناہ گاہوں کی تعداد 15 ہے جن میں سے 12 خشکی اور 3 سمندر میں ہیں۔

ان کا مقصد مربوط قدرتی ماحولیاتی نظام کے گروپ کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ہر ریزرو کے انتظامی اور تکنیکی معاملات ایک ڈائریکٹر کی نگرانی میں انجام دیے جاتے ہیں۔ جو اپنی ٹیم کے ساتھ ان محفوظ پناہ گاہوں میں موجود جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرتا اور جنگی اور فطری حیات کو نقصان پہنچنے والے واقعات بچانے کا کام کرتا ہے۔

تمام پناہ گاہوں کو محفوظ  قدرتی مقامات قرار دیا گیا ہے

مملکت میں اب تک کل پندرہ مقامات کو محفوظ قدرتی مقامات قرار دیا گیا ہے۔ ان میں جبل شدا، سجا، ام الرمث، التیسیہ، نفود العریق، عروق بنی معارض، مجامع الھضب، الطبیق، جزائر فرسان، جرف یدہ، الوعول، جزیرہ ام القماری، محازرہ الصید، الخنفہ، حرہ الحرہ اور الجبیل شامل ہیں۔