.

اسرائیل نے شام جانے والے ایرانی آئل ٹینکروں کو نشانہ بنایا : امریکی اخبار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار Wall Street Journal کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے شام جانے والے ایرانی تیل بردار بحری جہازوں کو بارودی سرنگوں کے ذریعے نشانہ بنایا۔

اخبار نے امریکی ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل نے شام جانے والے کم از کم 12 بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو زیادہ تر تیل یا ہتھیار منتقل کر رہے تھے۔ یہ کارروائی اس اندیشے کے سبب کی گئی کہ تیل سے حاصل آمدنی خطے میں انتہا پسندی پر خرچ کی جائے گی۔

ایران نے 2019ء کے اواخر سے کروڑوں بیرل تیل شام پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ تہران کے خلاف امریکی پابندیوں اور شام کے خلاف بین الاقوامی پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

شام کا رخ کرنے والی ایرانی تیل کی کھیپوں پر ایرانی پاسداران انقلاب کا کنٹرول ہے۔ امریکا کا کہنا ہے کہ ایرانی کارروائیوں کا مقصد ایران اور شام پر عائد پابندیوں سے بچ کر ایرانی پاسداران انقلاب کی فنڈنگ ہے۔

نقصان زدہ ایرانی تیل بردار جہاز
نقصان زدہ ایرانی تیل بردار جہاز

اسرائیلی میڈیا نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ بحیرہ روم کے مشرق میں اریانی بحری جہاز "شہر کورنڈفٹ" کو ایک حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب اسرائیل نے ایرانی کنٹینروں کے حامل بحری جہاز پر حملے سے اپنے کسی بھی تعلق کی تردید کی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز پر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران پر براہ راست الزام عائد کیا تھا کہ اس نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں خلیج کے پانی میں عُمان کے ساحل کے نزدیک ایک اسرائیلی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ جواب میں تہران نے واقعے میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ تہران اسرائیل کے اس دعوے کو یکسر مسترد کرتا ہے کہ دھماکے میں ایران کا ہاتھ ہے۔ ترجمان سعید خطيب زاده کے مطابق خلیج کا امن ایران کے لیے نہایت اہم ہے۔

دوسری جانب ایک اسرائیلی وزیر نے باور کرایا تھا کہ "ایران نے اسرائیلی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے سمندری بارودی سرنگوں کا استعمال کیا"۔