.

اسلامی عسکری اتحاد کی 'گوریلا جنگ' کے خطرے کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گردی کے خلاف قائم مسلمان ممالک کے فوجی اتحاد نے خنردار کیا ہے کہ گوریلا جنگ دہشت گردوں کے حملوں کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے خطرات سے باخبر رہنا ضروری ہے۔ کل جمعرات اسلامی فوجی اتحاد برائے انسداد دہشت گردی نے "گوریلا جنگ اور دہشت گردی سے اس کا رشتہ" کے عنوان سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا۔ اجلاس میں سعودی عرب بریگیڈیئر جنرل یحییٰ عسیری نے مملکت کی نمائندگی کی۔ اس کے علاوہ سلطنت عمان کی طرف سے لیفٹیننٹ کرنل زکی الرواہی، اسلامی عسکری اتحاد برائے انسداد دہشت گردی کے سیکرٹری جنرل میجر جنرل محمد المغیدی اور اتحاد کے دوسرے رکن ممالک کی فوجی قیادت نے شرکت کی۔

اسلامی عسکری اتحاد سیمینار
اسلامی عسکری اتحاد سیمینار

سیمینار سے خطاب میں بریگیڈیئر جنرل عسیری نے خطاب میں گوریلا جنگ کی ماہیت، اس کے طریقہ کار اور دہشت گردی کے ساتھ اس کے تعلق پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ گوریلا جنگ دہشت گردی کے چار اہم میدانوں نظریاتی، ابلاغی، فنڈنگ اور عسکری محاذوں پر کام کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ریاستی سطح پر جنگ ایک عالمی مظہر ہے جس کے اپنے پہلو اور مظاہر ہیں۔

اجلاس سے خطاب میں لیفٹیننٹ کرنل الرواحی نے کہا کہ گوریلا جنگجو گروپ مقامی ، علاقائی اور عالمی سلامتی کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔

اسلای عسکری اتحاد سیمینار
اسلای عسکری اتحاد سیمینار

خیال رہے کہ دہشت گردی کے خلاف تشکیل دیے گئے اسلامی عسکری اتحاد میں 40 ممالک شامل ہیں۔ مسلمان ممالک کے دہشت گردی کے خلاف قائم کردہ فوجی اتحاد کے اہداف میں انتہا پسندی، دہشت گردی، تشدد نمٹنے کے لیے عالمی امن سلامتی کی کوششوں میں عالمی برادری کے ساتھ مل کرکام کرنا اور دنیا کو امن کا گہوارا بنانے کی کوششیں جاری رکھنا ہے۔