.

سعودی عرب کی انسانی امداد متعدد ممالک میں بھوک کم کرنے کا سبب بنی: المعلمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے باور کرایا ہے کہ مملکت کی جانب سے انسانی بنیادوں پر دی گئی امداد نے کئی ممالک میں بھوک اور غذائی قلت کے حوالے سے مصائب اور بحرانات میں کمی لانے کے حوالے سے نمایاں اثر ڈالا ہے۔

یہ بات عالمی سلامتی کونسل کے وڈیو کانفرنسنگ اجلاس کے دوران اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مستقبل مندوب عبداللہ بن یحیی المعلمی نے اپنے خطاب میں کہی۔ اجلاس کا مقصد غذائی امن کو زیر بحث لانا تھا۔

المعلمی کے مطابق دنیا کو درپیش مختلف آفات اور المیوں کے سبب کئی ممالک کو غذائی امن کی ابتری اور غذائی نقص کے اعلی تناسب کا سامنا ہے۔ سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق المعلمی نے کہا کہ "یمن میں ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے انقلاب کے بعد سے ملک کی اقتصادی اور معاشی صورت بگڑنا شروع ہو گئی۔ فوجی کارروائیوں کے دوران میں جانی اور مادی نقصان ہوا۔ اس کے نتیجے میں یمنی شہری اپنے علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے"۔

المعلمی نے مزید بتایا کہ "سعودی عرب نے یمن میں غذائی امن کے سیکٹر میں متعدد منصوبوں پر عمل درامد کیا۔ علاوہ ازیں اقوام متحدہ کی تنظیموں کی سپورٹ کے ذریعے غذائی امن کے سیکٹر میں یمنی عوام کی امداد کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت 2021ء میں 43 کروڑ ڈالر کی امداد کی صورت میں سامنے آئی۔ اس طرح یمن میں بحران کے آغاز کے بعد سے اب تک سعودی عرب کی جانب سے فراہم کی گئی سپورٹ کی مجموعی مالیت 17 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے۔

سعودی مندوب نے واضح کیا کہ شاہ سلمان امداد مرکز نے شام کے علاوہ اردن اور لبنان میں شامی پناہ گزینوں کے غذائی امداد پیش کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس دوران میں 75 منصوبے پیش کیے گئے جن کی مالیت تقریبا 15.2 کروڑ ڈالر ہے۔

المعلمی کے مطابق افغانستان میں شاہ سلمان امدادی مرکز کے تحت غذائی امداد کے 16 منصوبوں کے ذریعے تقریبا 1.1 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کی گئی۔ علاوہ ازیں صومالیہ میں 9.5 کروڑ ڈالر مالیت کے غذائی امن کے 53 منصوبے پیش کیے گئے۔

المعلمی نے مزید بتایا کہ جنوبی سوڈان میں شاہ سلمان امدادی مرکز نے عالمی خوراک پروگرام WFP کے تعاون سے غذائی امن کے سیکٹر میں تین منصوبے پیش کیے۔ ان منصوبوں کی مالیت کا اندازہ 3.7 لاکھ ڈالر لگایا گیا۔

المعلمی نے باور کرایا کہ دنیا میں بالخصوص تنازعات کے علاقوں میں غذائی امن کے میدان میں سعودی عرب کا انسانی اور امدادی کردار جلی حروف کی طرح واضح نظر آتا ہے۔ اسی وجہ سے مملکت کا شمار عالمی سطح پر سب سے زیادہ عطیات دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔