.

بشار الاسد کے لیے جان گنوانے والے افغان جنگجو کا بد قسمت گھرانہ کس حال میں ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تہران کی جانب سے جنگجوؤں کو شام بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ جنگجو ایرانی پاسداران انقلاب کی "القدس فورس" کے ہاتھوں تشکیل پانے والی اور مسلح کی جانے والی ملیشیاؤں میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ایران نواز ملیشیاؤں میں شام میں عسکری وجود کے حوالے سے "فاطمیون" (ملیشیا) اہم ترین گروپ شمار ہوتا ہے۔

یقینا تہران اس ملیشیا کی ہلاکتوں کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کرتا ہے تاہم غیر سرکاری ذرائع اور بعض افغان ذمے داران کے مطابق اب تک ہزاروں افغان شہری ایرانی نظام کی خاطر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

فارسی ویب سائٹ "ایران وائر" کی ایک رپورٹ میں ایک افغان جنگجو "علی داد" کی بیوہ سے گفتگو پیش کی گئی ہے۔ خاتون نے بتایا کہ شامی سرزمین پر "فاطمیون" کی صفوں میں شامل ہو کر لڑتے ہوئے مارے جانے والے علی داد کے گھر والوں کو کیسے حالات کا سامنا ہے۔

فاطمیون کے سابق سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے ہمراہ۔
فاطمیون کے سابق سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے ہمراہ۔

واضح رہے کہ ایرانی نظام کے ذمے داران شام میں "فاطمیون" کے پرچم تلے افغان پناہ گزینوں کو استعمال کرنے کا ذکر بڑے افتخار اور اعزاز سے کرتے ہیں۔ متعدد افغان گھرانے اس بات سے لا علم ہیں کہ جنگ میں مارے جانے والے ان کے پیاروں کی میتوں کا کیا ہوا۔

ایران وائر کے نمائندے محمد باقری نے کابل سے بھیجی گئی رپورٹ میں بتایا کہ ایرانیوں نے افغان حکومت کو تجویز پیش کی ہے کہ شام میں جنگ میں شرکت کے بعد واپس لوٹنے والے "فاطمیون" ملیشیا کے ارکان کو افغان فوج میں بھرتی کیا جائے۔ یاد رہے کہ افغانستان واپس آنے والے فاطمیون کے ارکان کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ حکومت ان افراد کو گرفتار کر رہی ہے جب کہ دوسری جانب سماجی حلقوں نے بھی ان کو مسترد کر دیا ہے۔

فاطمیون ملیشیا کے مقتول جنگجو علی داد کی بیوہ اپنے تین بچوں کے ساتھ ملک کے وسطی علاقے بامیان میں شیعہ ہزارہ کمیونٹی کے بیچ رہتی ہے۔ اس کا شوہر دو سال قبل شام کے علاقے حلب میں مارا گیا تھا۔ علی داد کی بیوہ صبح سے شام تک کھیتوں میں کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہے۔ اس کے شوہر کو کام کرنے کے لیے ایران جانا تھا تا کہ اپنے گھرانے کو پیسے بھیج سکے تاہم اس کی تو میت بھی وطن واپس نہیں لوٹی۔

علی داد کی بیوہ کے مطابق اس کا شوہر افغانستان میں اپنے والد کی زمین پر کھیتی باڑی کرتا تھا۔ سال 2016ء میں اس نے کام کرنے کے لیے ایران جانے کا فیصلہ کیا۔ اسی سال وہ تہران پہنچ کر معمولی نوکری پر لگ گیا۔ چار ماہ کی شدید مشقت کے بعد وہ اپنے گھر والوں کو 10 ہزار افغانی بھیجنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس سے قبل علی داد نے اس اسمگلر کو رقم کی ادائیگی پوری کی جس نے اسے غیر قانونی طور پر ایران پہنچایا تھا۔ علی داد نے ایک سال تک ایران میں کام کیا۔ اس کے گھرانے نے سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ لڑنے کے لیے شام چلا جائے گا۔

اہل خانہ فاطمیون کے ایک جنگجو کی تصویر تھامے بیٹھے ہیں۔
اہل خانہ فاطمیون کے ایک جنگجو کی تصویر تھامے بیٹھے ہیں۔

علی داد کی بیوہ کے مطابق اس کے شوہر نے اچانک اطلاع دی کہ ایران میں کام کے حالات خراب ہو گئے ہیں اور اب وہ کام کے سلسلے میں شام جا رہا ہے۔

علی داد نے بتایا کہ شام میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزار کے دفاع کے واسطے اسے ماہانہ 500 ڈالر ملیں گے جو ایران میں کام کے دوران میں قطعا حاصل نہیں ہو سکتے۔

علی داد کی بیوہ نے اپنے شوہر سے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اگر اسے ایران میں کام نہیں مل رہا تو وہ وطن واپس آ جائے۔ تاہم علی داد نے بتایا کہ وہ لڑائی میں شریک نہیں ہو گا، صرف مزار کے پاس رہے گا تاکہ اسے داعش تنظیم کے حملے سے بچایا جا سکے۔

سال 2017 ء میں 23 سالہ علی داد "فاطمیون" ملیشیا کے ساتھ منسلک ہو گیا۔ اس سے قبل علی داد کا کوئی عسکری پس منظر نہیں تھا۔ اس دوران اس نے افغانستان میں اپنے بیوی بچوں کے لیے رقم بھی بھجی۔

علی داد نے شام میں سات ماہ لڑائی میں شرکت کی۔ اس کے گھرانے کو ملنے والی معلومات کے مطابق وہ 2018ء کے رمضان میں حلب شہر میں "فاطميون" کے 7 دیگر ارکان کے ساتھ مارا گیا۔ اس کی میت ایک سال تک شام میں رہی۔

علی داد کے چچا کے بیٹے نے اس کی بیوہ سے رابطہ کر کے بتایا کہ علی داد شام میں زخمی ہو گیا ہے تاہم وہ اس بارے میں کسی کو نہ بتائے۔ ساتھ اس چچا کے بیٹے نے علی داد کی بیوہ کو 50 ہزار افغانی بھیجے۔ دس روز بعد علی داد کے چچا کے بیٹے نے فون پر مطالبہ کیا کہ علی داد کی بیوی اور بچے پاسپورٹ وغیرہ تیار کر کے ایران کا سفر کریں۔ تاہم مطلوبہ اخراجات کی رقم نہ ہونے کے سبب علی داد کی بیوی نے انکار کر دیا۔ آخر کار علی داد کے چچا زاد بھائی نے حقیقت بیان کر دی۔ اس نے بتایا کہ ایرانی حکام علی داد کی بیوہ اور بچوں کے سفری اخراجات برداشت کریں گے اور ایران نے علی داد کو "شہید" کا خطاب دیا ہے۔

علی داد کی بیوہ کے مطابق "میں نے اس وطن کا سفر کرنے سے انکار کر دیا جس نے میرا شوہر اور میرے بچوں کا باپ ہم سے چھین لیا۔ اس واسطے میں افغانستان میں رہنے کو ترجیح دی۔ میرے شوہر کی میت ایک سال تک شام میں رہی۔ گذشتہ برس ہمیں بتایا گیا کہ میت کو دیگر ہلاک شدگان کے ساتھ تدفین کے لیے قُم بھیج دیا گیا۔ مگر مجھے نہیں معلوم کہ میرے شوہر کی قبر کہاں ہے"۔

علی داد کی بیوہ اس وقت بامیان میں اپنے تین بچوں کے ساتھ لاچارگی کی زندگی گزار رہی ہے۔ ایرانی حکام نے علی داد کے چچا زاد بھائی کے ذریعے چھ ماہ تک اس گھرانے کو مالی امداد بھیجی۔ تاہم اس کے بعد یہ سلسلہ منقطع ہو گیا۔