.

سعودی عرب میں ایک سال کے دوران کاروں کی درآمدات 47 ارب ریال تک پہنچ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جنرل کسٹمز اتھارٹی نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں گذشتہ سال 2020 سے رواں سال فروری تک مختلف نوعیت کی کاروں کی درآمد 47 ارب ریال تک جا پہنچی ہے۔

کسٹمز اتھارٹی نے العربیہ نیٹ کو بتایا کہ سعودی عرب میں گذشتہ ایک سال کے دوران 623،266 کاریں درآمد کی گئیں۔ کاروں کی زیادہ تر درآمدات امریکا، چین ، جاپان، جنوبی کوریا ، بھارت، انڈونیشیا، تائیوان، تھائی لینڈ، میکسیکو، جرمنی اور برطانیہ سے ہوئی۔

اس سلسلے میں ، وزارت تجارت نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا کسٹمز اتھارٹی نے ایک مانیٹرنگ ٹیم تشکیل دے رکھی ہے جو کاروں کے مقامی ڈیلروں اور ایجنٹوں کے ہاں لائی گئی کاروں کا معائنہ کرتی اور معیاری کاروں کی درآمد کے لیے دورے کرتی ہے تاکہ صارفین کی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی اس بڑی منڈی میں تجارتی دھوکہ دہی کا سد باب کیا جا سکے۔

مانیٹرنگ کے دوران متعدد کمپنیوں اور ایجنسیوں کی خلاف ورزیاں بھی نوٹ کی گئیں، سے یہ ثابت ہوا کہ انہوں نے کچھ خراب یا ناکارہ کاروں کی مرمت کروائی اور انہیں خریداروں کوخرابی اور مرمت کے بارے میں مطلع کیے بغیر فروخت کردیا۔ کاروں کی درآمدات کا کاروبار کرنے والی کمپنیوں کی طرف سے قواعد کی خلاف ورزی کرنے پران کے خلاف قانونی طریقہ کار کے مطابق کارروائی کی گئی اور انہیں بھاری جرمانے کیے گئے۔

وزارت تجارت ان تمام افراد کے خلاف قانونی طریقہ چارہ جوئی کو یقینی بناتی ہے جو تجارتی دھوکہ دہی کے نظام کے تحت خلاف ورزی میں ملوث ثابت ہوتے ہیں۔ وزارت تمام صارفین سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی شکایات کی اطلاع وزارت کے مواصلاتی مرکز کو 1900 نمبر پر بھیجیں یا 'ابلاغ کمرشل ایپ' کے ذریعے اپنی شکایت درج کرائیں۔

آٹوموبائل کے ماہر ماجد الشیخی نے کہا کہ سعودی عرب میں استعمال شدہ کار مارکیٹ میں دھوکہ دہی کے سب سے نمایاں طریقوں میں 'میٹر ڈاؤن' کرنا شامل ہے۔ اس طریقے کے مطابق ایجنٹ کاروں کی 'رننگ' اصل سے کم کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی کار 4 لاکھ کلو میٹر چلی ہے تو اس کے میٹر پر رننگ کم کرکے 70 ہزار کلو میٹر کردی جاتی ہے۔ یہ فراڈ عام ہے مگر اب اس کا پتا چلانا آسان ہے۔

اس کے علاوہ گاڑیوں میں فراڈ کا ایک طریقہ خراب کار کو مرمت اور اس کی پالش کرکے اسے نئی ظاہر کرکے پیش کیا جاتا ہے۔ اس سے بھی گاہک دھوکہ کھا جاتے ہیں۔