.

ایران نظام کے اندر اختلافات اور صدر روحانی پر تنقید کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں صدر حسن روحانی کو ملک کے بڑے سرکاری اداروں کی جانب سے مسلسل تنقید کا سامنا ہے۔

گذشتہ ہفتوں کے دوران میں روحانی نکتہ چینی کی توپوں کا سامنا ہے بالخصوص جوہری معاملے اور مغرب کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہونے کے حوالے سے ان پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ عارضی معاہدہ جو انہوں نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ طے کیا ہے۔

مذکورہ تنقیدی سلسلہ ایران میں اہم معاملات کے حوالے سے اندرونی انقسام کا مظہر ہے۔ صدر روحانی کے دفتر کے سربراہ محمود واعظی نے قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری علی شمخانی پر زور دیا ہے کہ وہ "کونسل کے سربراہ (حسن روحانی) کے ساتھ پہلے کی طرح رابطہ کاری جاری رکھیں"۔ واعظی نے شمخانی کے آخری انٹریو پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ "اقتصادی جنگ کی صورت حال کے بیچ ماحول کو پرسکون رکھنا چاہیے اور مسائل سے گریز کرنا چاہیے"۔ ایران انٹرنیشنل نیٹ ورک کے مطابق واعظی نے یہ بات ہفتے کی شام کہی۔

واضح رہے کہ حالیہ چند ماہ کے دوران قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سربراہ (صدر روحانی) اور کونسل کے سکریٹری (شمخانی) کے درمیان مختلف معاملات کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے ہیں۔

چند روز قبل شمخانی نے "اِسنا" نیوز ایجنسی کو دیے گئے بیان میں باور کرایا تھا کہ نومبر 2019ء میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے منصوبے پر عمل درامد کے حوالے سے سنجیدہ تنقید موجود ہے۔ شمخانی نے حکومتی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر مؤثر رہیں۔

یاد رہے کہ نومبر 2019ء کے دوران پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں ایران کے کئی شہروں میں وسیع پیمانے پر عوامی احتجاج کا سلسلہ سامنے آیا تھا۔ جلد ہی احتجاج ملک کے تمام علاقوں تک پھیل گیا اور یہ مظاہرے ایرانی نظام اور رہبر اعلی کے خلاف احتجاجات میں تبدیل ہو گئے۔